خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 433
خطابات طاہر جلد دوم 433 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء کیا لکھوں۔واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بھی بدن کانپتا ہے۔اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں۔کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سُنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔باایں ہمہ شوخی و خیر گی یہ شخص سخت جاہل ہے۔عربی سے ذرہ مس نہیں بلکہ دقیق اُردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ اس حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے۔اب میں اُسی خدا عز وجل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔والحمد لله والصلوة والسلام على رسوله محمد المصطفى افضل الرسل و خير الورى سيدنا و سيد كل ما في الارض والسماءِ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپوره (۲۰ فروری ۱۸۹۳ء) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۶۵۱-۶۵۰) پھر آپ نے اپنے منظوم کلام میں فرمایا: الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بُران محمد الا کے منکر از شان محمد ہم از نور کہا یان محمد کرامت گرچه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد ۲ را پریل ۱۸۹۳ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں رویا میں اُس شخص کے دکھائے جانے کا ذکر ہے جو لیکھرام کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا۔