خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 423

خطابات طاہر جلد دوم 423 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء ہو رہی ہے کہ بعض اقتباسات جن کتابوں سے لئے گئے تھے۔ان کے مصنفین سے ان کی اجازت لینے کی ضرورت تھی۔پس اب یہ مراحل اجازت کے مراحل ہیں۔جب تک کسی کتاب کے مصنف سے اجازت نہ لی جائے۔اُس کا اقتباس پیش نہیں کرنا چاہتے۔پس اُمید ہے کہ اگلے ایک ماہ کے اندر اندر یہ سب اجازتیں حاصل ہو جائیں گی اور انشاء اللہ اب یہ کتاب آپ کومل جائے گی۔میری جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۸۲ء کے موقع پر عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کے موضوع پر کی جانے والی پہلی تقریر کا انگریزی ترجمہ Absulute Justice, Kindness and Kinship Three Creative Principles کے عنوان سے پہلے حصہ کے طور پر اس سے قبل ۱۹۹۶ء میں پیش کیا گیا تھا۔دراصل یہ انگریزی ترجمہ میری تقریر کا بعینہ ترجمہ نہیں بلکہ اس اردو تقریر کو بنیاد بناتے ہوئے میں نے اس میں بہت سے اضافے بھی کئے ہیں جن کا وقت کی کمی کے باعث تقریر میں ذکر کرنا ممکن نہیں تھا۔انہیں اس کتاب میں شامل کر لیا گیا ہے۔اب اس کا دوسرا حصہ تیار ہے اور یہ بھی اس سال کے اختتام تک طبع ہو جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اُس نے اس سال مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ ال به الصلوة والسلام کے قدموں کی برکت سے نمایاں طور پر تحریری اور تصنیفی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔اشتہارات کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔رقیم پریس اسلام آباد نے بھی بہت عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں۔جو کتب رقیم پریس کی طرف سے اور افریقن ممالک کے احمدی پریس کی طرف سے اس سال شائع ہوئی ہیں اُن کی تعدا د نولا کھ ستر ہزار پانچ سو ہے۔جہاں تک سال ۱۸۹۷ء کا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس میں آنے والے خطوط کا ذکر فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خطوط پہلے سے بہت بڑھ گئے۔گویا کہ سال بھر میں بارہ ہزار خطوط حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو لکھے گئے اور آپ نے ان کے جواب دیئے۔بارہ ہزار خطوط اُس زمانہ میں آج کے دولاکھ خطوط سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔کیونکہ سارے خطوط خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھتے تھے اور ان کا جواب لکھتے تھے یا لکھاتے تھے۔یقین نہیں آتا کہ آپ کو کیسے اتنی توفیق ملی۔اب اس سال ۱۹۹۷ء میں اگر چہ دو لاکھ خطوط ہیں جو ہمارے مرکزی دفتر کو ملے ہیں۔مجھے اور ہمارے