خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 422

خطابات طاہر جلد دوم 422 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء ضرورت پیش نہیں آئی۔کسی ڈاکٹر کوگھر بلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔پس اگر عالم احمدیت میں یہ سب کچھ ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑا احسان ہوگا۔چنانچہ انڈونیشیا میں یہ کام بڑی تیزی سے شروع ہو چکا ہے اور انڈونیشین وفد نے مجھے بتایا کہ بہت سی ایسی لاعلاج بیماریاں تھیں۔جن کے متعلق ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا۔مگر ہومیو پیتھک لیکچر زسن کے جو شاگرد تیار ہوئے ہیں ان کو خدا تعالیٰ نے ایسا ملکہ عطا فرمایا ہے کہ وہ خدا کے فضل کے ساتھ ان بیماریوں کا علاج مؤثر طور پر کر سکتے ہیں اور یہ سلسلہ اب کثرت سے انڈونیشیا میں پھیلتا جا رہا ہے۔افریقن ممالک میں سے خانا کو توفیق ملی ہے کہ انہوں نے اس میں بڑے نمایاں قدم آگے بڑھائے ہیں۔مگر باقی ممالک کو بھی میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کے دیکھیں۔انشاء اللہ ، اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ ذریعہ ہمارے لئے بنی نوع انسان کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے گا یعنی بدن کی صحت تو ہوگی ہی رُوح کی صحت بھی انشاء اللہ تعالیٰ اسی ذریعہ سے ہمیں حاصل ہوگی۔ایک کتاب جس کا میں تذکرہ بڑی دیر سے کرتا چلا آ رہا ہوں "Revelation, Rationality Knowledge and Truth" سیہ وہ کتاب ہے جو اب خدا کے فضل سے مکمل طور پر دہرانے کے بعد میرے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔یعنی میرے ہاتھ سے ان معنوں میں نکل چکی ہے کہ اب پریس والے اس کی آخری تیاری بھی کر رہے ہیں اور ایک ٹیم جو میں نے اس غرض کے لئے بنائی تھی۔مولوی منیر الدین صاحب شمس جو حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کے صاحبزادے ہیں، ان کو ان باتوں کا بہت ملکہ ہے۔ان کے ساتھ ایک انگلستان کی تعلیم یافتہ بچی فریدہ جو علمی لحاظ سے کافی ٹھوس مقام رکھتی ہے اور ایک بچی فرینہ جو چو ہدری اعجاز احمد صاحب کی بیٹی ہے۔یہ تین کی ٹیم ہے جو اس کی آخری نوک پلک درست کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یہ اپنی طرف سے ہر گز کسی مضمون کا اضافہ نہیں کرتے۔بلکہ قومہ بھی ٹھیک کرنا ہو تو مجھ سے پوچھ کر لگاتے ہیں۔اس لئے ان کا عمل دخل آخری نوک پلک درست کرنے تک ہے۔مگر وہ بہت اہم ہے۔بہت سی ایسی باتیں جو میں نے دوبارہ نہیں دیکھی تھیں۔ان کی توجہ دلانے پر مجھے اُس کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔یہ کتاب جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے۔اب پریس کے لئے تیار پڑی ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب یہ جلد از جلد پر یس کی طرف سے شائع کی جائے گی۔سر دست اس میں دیر اس لئے