خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 388
خطبات طاہر جلد دوم 388 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء سے جواب دیا اور تائید فرمائی۔البانیہ کے لوگوں نے بھر پور نعروں سے جواب دیا اور تائید فرمائی۔) Albania is there and Albania is here as well۔رئیس ڈیکا صاحب یہ امیر ہیں البانیہ کے اور البانیہ کے متعلق میں جرمنی کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اب تک تو وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ یورپ کی سب سے بڑی احمدی جماعت ہیں مگر البانیہ بعد میں آیا ہے اور تیزی سے آگے نکل رہا ہے اگر آپ نے فکر نہ کی تو کل کو البانیہ یہ کہہ سکے گا کہ ہم خدا کے فضل سے یورپ کی سب سے بڑی یور بین احمدی جماعت ہیں۔کیوں رئیس ڈیکا یہ ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ درست ہے، کتنے ہو چکے ہیں آپ؟ امیر صاحب نے بتایا !Fortyfive Thousand۔ابھی آگے نکل چکے ہیں۔معاف کرنا میں نے دیر میں تنبیہ کی ، میں جرمنی سے معذرت کے ساتھ یہ عرض کر رہا ہوں کہ تنبیہ میں دیر ہوگئی۔یہ پہلے ہی آگے نکل چکے ہیں۔اس وقت ایک یورپین ملک ہے جس میں پینتالیس ہزار احمدی مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا اقرار کرنے والے موجود ہیں۔(حضور نے امیر صاحب البانیہ کو سٹیج پر بلوایا اور فر مایا کہ) یہ وہ البانیہ کے مجاہد اول ہیں جن کو ابھی لمبا عرصہ نہیں ہوا کہ وہ احمدیت میں شامل ہوئے۔یہ سویڈن میں احمدیت میں شامل ہوئے اور یہ فیصلہ کر کے، یہ بتا کر کہ اب مجھے تمہارے ملک میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔میں جب تک اس پیغام کو ، اس زندگی بخش پیغام کو اپنی قوم تک نہیں پہنچا تا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا اس لئے الوداع کہہ کے واپس گئے اور اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا۔اس طرح توحید ہے جو پنپتی ہے اور پھیلتی ہے اور بہت سے کثرت سے موحد پیدا کرتی ہے۔ایک سال کے اندر خدا کے فضل سے، خدا کے اس موحد بندے کو پینتالیس ہزار احمدی مسلمان بنانے کی توفیق ملی ہے۔اب میرا خیال ہے کہ چند منٹ رہ گئے ہیں، دعا پہ اب ہم اس اجلاس کی کارروائی کو ختم کرتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی میے کے سب کام دعا ہی سے چلتے تھے اور یہ سب فیض جو آج آپ دیکھ رہے ہیں، یہ خدا کا فیض جو آسمان سے نازل ہورہا ہے تمام دنیا کے براعظموں پر آسمان سے رحمتوں کی بارش بن کے برس رہا ہے۔میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ محمد مصطفی کی دعاؤں کا فیض ہے جو آج نازل ہورہا ہے ، آپ ہی سے خدا کا وعدہ تھا کہ آخرین میں وہ جماعت پیدا کروں گا جو آخر پر