خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 360

خطابات طاہر جلد دوم 360 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء ނ ان کی حالت پر روئیں، پیٹیں یا نہیں کیا کریں۔ایک بے اختیاری کا عالم ہے ،ان لوگوں سے ہمیں واسطہ پڑ گیا ہے۔مذہب کی تاریخ میں کسی مذہبی قوم کو اس سے زیادہ گدھوں۔واسطہ بھی نہیں پڑا۔ر سالہ الامداد مولانا اشرف علی صاحب تھانوی بابت ماہ صفر ۶ ۳۷ ہجری صفحہ ۴۵ پر لکھا ہے دیو بندیوں کا کلمہ لکھا ہوا ہے، جو مولانا اشرف علی تھانوی نے خواب میں دہرایا اور دہراتے رہے اور رکنے کی کوشش بھی کی لیکن نہیں رکے۔اور وہ کلمہ یہ تھالا الہ الا الله اشرف على رسول الله اور درود کیا تھا اللهم صل على سيدنا و نبينا مولانا اشرف علی تھانوی۔یہ عزت رسول ہورہی ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی مدح کے گیت گائے جارہے ہیں؟ اور احمدی جو جیلوں میں سخت گرمی میں سخت عذاب کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا۔اللهم صل على محمد و على آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید، نحمده ونصلى على رسولہ الکریم، کہ اے اللہ محد اور آپ کی امت اور آپ کی آل پر ہمیشہ درود بھیجتا رہ اور ہم حمد کرتے ہیں اللہ کی اور سلام اور درود بھیجتے ہیں محمد رسول اللہ پر۔یہ گستاخی رسول کا تصور ہے جو اس ملک میں رائج ہو چکا ہے۔صراط مستقیم کتاب ہے اس میں دیکھیں بات کیسی ٹیڑھی کی گئی ہے۔صفحہ ۱۵۹ پر صلى اللهم مولوی اسماعیل صاحب دہلوی لکھتے ہیں: نماز میں حضور علیہ السلام کا خیال گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوبنے سے بھی بُرا ہے۔“ بدبختی پر بدبختی ، منہ کالے پر منہ کالا یہ ان کے دینوں کا حال ہے اور احمدیت پر بڑھ چڑھ کے بکواس کرتے ہیں کہ ہم نعوذ بالله من ذالک گستاخ رسول ہیں۔لیکن اجازت ہے آپس میں، ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔جو مرضی گستاخیاں کریں جب تک بہتر کی تھیلی میں شامل ہیں سب اجازت ہے۔وہ جسے محمد رسول اللہ نے باہر نکالا اور فرمایا کہ یہی ہے جنتی فرقہ ، اس کی حمد بھی ان کو بُری لگتی ہے، اس کی ثناء بھی ان کو تکلیف دیتی ہے۔۔کتاب التوحید ، صفحہ ۷۸ محمد بن عبد الوہاب نجدی لکھتے ہیں: