خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 356
خطابات طاہر جلد دوم 356 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء کہ یہ گستاخی رسول ہے۔یہ کوئی جیسے Unwritten Traditions ہوتی ہیں، غیر تحریری قانون بنائے جاتے ہیں ویسا ہی کوئی قانون ہے۔آپس میں ایک دوسرے کو کھلی چھٹی ہے جو چاہیں بدتمیزیاں کرتے پھریں۔میں چندان کی مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ یہ گستاخی رسول کے جرم میں قتل کا مطالبہ کرنے والے ہیں کون لوگ ؟ بریلوی فرقے کے متعلق شمع توحید مصنفہ ثناء اللہ صاحب امرتسری جو اہلحدیث کے چوٹی کے مستند علماء میں شمار ہوتے ہیں اور جن کا آج بھی یہ نام بڑھا چڑھا کر بڑی عزت سے لیتے ہیں۔ان کا فتویٰ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ کا درجہ دینے والے لوگ ہیں ، یعنی مشرک ہیں۔پھر کہتے ہیں ! خدا کے علاوہ بزرگوں کو مشکل کشا سمجھتے اور مدد مانگتے ہیں، یعنی ان کے متعلق شرک کا قطعی فتویٰ اور پھر بھی یہ مسلمان یعنی اسلام میں اگر اجازت نہیں تو لا اله الا الله مـحـمـدرســول الله کی اجازت نہیں ہے لیکن اللہ کا شریک ٹھہر الو اس کی کھلی اجازت ہے۔سید جماعت علی شاہ کو ہادی اور شافع سمجھتے ہیں۔یعنی اپنے پیروں کو وہ مقام دے دیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بھی شریک بنالیا، خدا ہی کا نہیں۔تو کہاں گیا وہ دعویٰ کہ ہم خدا کا شرک تو برداشت کرلیں گے، محمد رسول اللہ کا شرک برداشت نہیں کریں گے۔یہ سید جماعت علی شاہ صاحب کو تو ان کے فتوے کی رو سے محمد رسول اللہ ی کا ہمسر بنالیا گیا، آپ کا شریک بنالیا گیا۔یہ فتویٰ سید جماعت علی شاہ کو ہادی اور شافع سمجھتے ہیں، انوار الصوفیاء لاہور ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۲۳ واگست ۱۹۱۵ء صفحه ۳۲ پر درج ہے۔پھر لکھا ہے اسی انوار الصوفیاء میں ،سید جماعت علی شاہ کو حضور کے برابر سیدوں کے سید ، مظہر خدا، نور خدا، شاہ لولاک اور ہادی کل قرار دیتے ہیں اور کسی مسلمان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ساری غیر تیں ان کی مری ہوئی سہمی ہوئی اسی طرح بیٹھی رہ جاتی ہیں اور کہیں سے کوئی رد عمل نہیں ہوتا۔اور پھر گلدستہ کرامات میں ان بریلویوں کے متعلق لکھا ہے کہ آنحضرت کو عرش تک حضرت سید عبدالقادر جیلانی نے پہنچایا تھا۔یہ کہتے ہیں شرک فی النبوت نہیں ، یہ شرک تو رسول الله له سے اوپر بیان کیا گیا ہے، اس کو ہم کیسے شرک کہہ لیں۔کہتے ہیں! حضرت سید عبدالقادر جیلانی نے آنحضرت ﷺ کو خو عرش تک پہنچایا تھاور نہ آپ میں کہاں طاقت تھی کہ آپ خود پہنچ جاتے۔اور عقیدہ یہ ہے، اور گلدستہ کرامات کا یہ حوالہ ہے اور ابوالحسنات سید محمد احمد قادری رسالہ العقائد کے صفحہ ۲۴ پر