خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 350

خطابات طاہر جلد دوم 350 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء موجود ہیں مخالف اور معاند ہیں، ان سے کھلم کھلا ٹکراتی ہیں، متصادم ہیں اور ناممکن ہے کہ اگر بخاری کی یہ حدیث کچی ہے تو وہ حدیثیں کسی توجہ کے لائق ہوں۔یقیناً جھوٹی ہیں، فرمایا کہ دیکھو میں تمہیں اس کے قتل کی اجازت نہیں دیتا شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔یہ عذر کیسا عمدہ اور کیسا پیارا پیش فرمایا ہے کہ کیسیہوسکتا ہے عبادت کرتا ہو، بدکار سہی بد بخت سہی، مجھے گالیاں دیتا ہے مگر شاید اس کی عبادتیں اس کو بچالیں۔لیکن خالد بن ولید نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کتنے ہی نماز پڑھنے والے ہیں جن کے دل میں کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔یہ وہی آواز ہے جو آج پاکستان کی گلی گلی میں گونج رہی ہے اور احمدیوں کے قتل کا عذر پیش کرتے ہوئے عدالتیں بھی یہی اعلان کر رہی ہیں اور گلیوں میں بھی ملاں یہ اعلان کرتا ہے کہ ان کی نمازوں پر نہ جاؤ یہ نمازوں میں کچھ اور دکھاتے ہیں اندر سے کچھ اور پڑھتے ہیں، ان کے کلے پر نہ جاؤ یہ ظاہر میں محمد کا کلمہ پڑھتے ہیں اور اندر سے کسی اور کا کلمہ پڑھتے ہیں۔اس لئے ہمارا حق ہے، ہمارا فرض ہے کہ ان کو قتل و غارت کریں آنحضرت ﷺ نے جب خالد بن ولیڈ کے اس عذر کو سنا تو جانتے ہو کیا جواب دیا، فرمایا: اني لم آؤمر ان انقب عن قلوب الناس ولا اشق بطونهم (السنن الكبرى صفحه: ۱۹۶) اے خالد! میں اس لئے مبعوث نہیں فرمایا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگاؤں اور ان کے سینے پھاڑ کر دیکھوں ، میں تو اسی کو قبول کروں گا جو زبانیں کہتی ہیں اور اسی پر فتوے صادر کروں گا، میں مبعوث نہیں کیا گیا۔آج کے بد بخت ملاں اس لئے مبعوث کئے گئے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگا ئیں۔اب اس کا عذر، احمدیوں کے خلاف ظلم وستم کا جو عذر انہوں نے تراشا ہے یہ وہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ہمیشہ کے لئے رد فرما چکے ہیں۔اقبال حیدر صاحب وزیر قانون یہ بیان دیتے ہیں کہ اے ملا نو ! تم ہمیں کیوں ڈراتے ہو کہ ہم تو ہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ہم تو ظاہری تو ہین کو بھی برداشت نہیں کریں گے اور مخفی تو ہین کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔اور مخفی تو ہین سے مراد ان کی یہ ہے کہ اگر کوئی ظاہری طور پر رسول اللہ ﷺ کے عشق کے گیت گائے گا اور تم یہ کہو گے کہ دل میں بد بخت ہے تو ہم یہ بھی مان لیں گے۔ہم تو اتنے تمہارے نوکر، چاکر ، غلام ہیں جو قانون تمہارے پاؤں کے نیچے مسلا جانے کے لئے تیار بیٹھا ہے اس کے محافظوں پر کیا اعتراض ہے اور کیا ان کے خلاف تم زبانیں کھول رہے ہو۔یہ اس اعتراض کا مفہوم ہے، یہ اس کی حقیقت ہے۔