خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 349

خطابات طاہر جلد دوم 349 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء گے یہاں تک کہ دین سے ایسے باہر نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے باہر نکل جاتا ہے، آرپار ہو جاتا ہے۔اب یہ عجیب ہے فصاحت و بلاغت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سختی کی اجازت چاہی تھی اور آنحضرت نے سختی کو نا پسند فرماتے ہوئے نہ صرف اجازت نہیں دی بلکہ یہ فرمایا! کہ عمر تمہیں زیب نہیں دیتا۔اس بدبخت کی پشت سے وہ بد بخت قوم پیدا ہونے والی ہے اور آئندہ زمانے میں وہ لوگ آنے والے ہیں جو اس طرح دین کے معاملے میں جہالت سے حد سے زیادہ تجاوز کیا کریں گے اور سختی کیا کریں گے۔پس ان بدبختوں کا معاملہ ان پر چھوڑ دو، ان کا دین سے کوئی بھی تعلق نہیں رہے گا۔( مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر ۱۱۵۵۴۰) پس آج کا وہ بدنصیب زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جبکہ یہ حدیث اپنی پوری شان کے ساتھ تمام تر وضاحت کے ساتھ تمام تر صفائی کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔اسی قسم کی اور روایات بھی درج ہیں ایک صحیح بخاری میں بھی روایت درج ہے اور اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر یہ الزام لگایا گیا تو اس وقت آنحضرت نے کیا جواب دیا یہ واقعہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نبیکریم ﷺ کے مال تقسیم کرنے کے موقع پر اعلانیہ اعتراض کر رہا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا کہ عدل سے کام نہیں لیا گیا۔آنحضرت ﷺ اس کے جواب میں یہی فرماتے رہے اتق اللہ ،اللہ کا خوف اختیار کرو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔خالد بن ولید کھڑے ہوئے ، آنحضرت ﷺ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی۔آپ نے فرمایا نہیں ایسا مت کرو، شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔عجیب شان ہے اللہ کی اور اللہ کے رسول کی۔یہ اسلام ہے، یہ اسلام ہے جو اپنے حسن کے ساتھ تمام دنیا پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کون ہے جو اس اسلام کی راہ روک سکتا ہے؟ وہ اسلام تم نے کہاں سے سیکھا ہے جو من و عن اسلام کے دشمنوں پر صادق آ رہا ہے، جو ابو جہل اور عقبہ اور شیبہ کے کردار پیش کر رہا ہے، جو تاریخ انبیاء میں انبیاء کے تمام دشمنوں کے کردار پیش کر رہا ہے۔تم کن بد بختوں کے پیچھے چل پڑے ہو، محمد رسول اللہ کا دامن چھوڑ کر کن اندھیروں میں تم ب رہے ہو۔ایک ہی دامن ہے جو نجات کا دامن ہے، ہر نجات محمد رسول اللہ کے اسوہ سے وابستہ ہے۔سنئے حضرت رسول اکرم ﷺ کی اس طرح گستاخی کی گئی۔وہ جھوٹی باتیں ہیں جو یہ کہا کہ کون ہے جو اس کے متعلق میرا کفیل ہو جائے ، میرے لئے کافی ہو۔خالد بن ولیڈ کھڑے ہوئے قتل کر دیا۔سب افسانے ہیں، جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ان واضح قطعی احادیث کے جو صحیح بخاری میں صلى الله بھٹکتے پھر