خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 345

خطابات طاہر جلد دوم 345 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء میں حاضر ہوئے اور کہا آپ پر لعنت ہو اور ہلاکت ہو۔اس سے زیادہ آمنے سامنے گستاخی اور کیا ہوسکتی ہے۔اس پر انہوں نے کہا اور دل میں یہ باتیں سوچیں کہ ہم نے جو اتنی بڑی جرأت کی ہے کہ رسول خدا کہلانے والے کو اس کے منہ پر لعنت ڈالی ہے اور کہا ہے تجھ پر ہلاکت ہو تو پھر خدا ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا۔کہتے ہیں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں یہ آیات نازل ہوئیں وَ إِذَا جَاءُوكَ حَيَّوكَ بِمَالَمْ يُحَيْكَ بِهِ الله (المجادلة: ٩) پس جب یہ لوگ یہ بد بخت جب تیرے پاس حاضر ہوتے ہیں تو اس طرح تجھے خوش آمدید کہتے ہیں یا اس کی جو Greeting کرتے ہیں، انگریزی میں لفظ Greeting ہے۔ایسی Greeting کرتے ہیں جو خدا نہیں کرتا ، خدا کی Greeting تیرے لئے اور ہے، یہ بد بخت اور طرح کرتے ہیں اور یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قرآن کریم نے ان کو عذاب کی خوشخبری تو دی ہے، لیکن ان کے قتل کا کوئی حکم جاری نہ فرمایا اور آنحضرت ﷺ نے بھی اس کے نتیجے میں کوئی سزا ان پر مقرر نہیں کی حالانکہ یہ واقعہ لازماً اور ظاہر مدینے کا واقعہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ کو سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو چکا تھا، آپ کو اختیار تھا کہ جس کو وہ واجب القتل سمجھتے اس کے قتل کا حکم جاری فرماتے۔پھر آپ کے متعلق مسلسل روایات ملتی ہیں کہ کفار آتے تھے اور آپ کو مذمم کہا کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے اللہ نے تو میرا نام محمد رکھا ہے تم مجھے مذمم کہتے ہو۔مذمم کا مطلب ہے سب سے زیادہ مذمت کیا گیا، یعنی سب سے زیادہ نہیں شدید مذمت کیا گیا۔جس کے اوپر ، جس پر کئی قسم کے عیب ڈالے جائیں اور بہت گندے عیب ڈالے جائیں اس کو مذمم کہتے ہیں۔تو آپ اس کے جواب میں صحابہ کو یہ تو نہیں کہا کرتے تھے کہ کون میرے لئے کافی ہوگا ان بدبختوں کے خلاف ؟ اور حضرت عمرؓ اور حضرت علی اور خالد بن ولید و غیرہ تلوار میں سونت لیا کرتے تھے کہیں اشارہ بھی اس کا ذکر نہیں۔آپ کا خلق عظیم دیکھیں ! آپ فرماتے ! اللہ نے تو میرا نام محمد رکھا ہے، یہ کسی نزم کو گالیاں دیتے ہوں گے یہ گالیاں مجھے تو نہیں پہنچتیں۔اس طرح اللہ نے مجھے ان کے بُرا بھلا کہنے سے بچالیا، پس اللہ نے بچالیا ہے محمد رسول اللہ کو، اللہ نے آپ کا نام محمد رکھا ہے ایک کیا کروڑوں ، اربوں بد بخت بھی تمام عمر محمد رسول اللہ کو گالیاں دیتے چلے جائیں، محمد رسول اللہ کا یہ کلام ہمیشہ سچار ہے گا کہ خدا نے خود آپ کا نام محمد رکھ کے ہر بد بخت کی بدزبانی سے آپ کو بچالیا ہے۔