خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 344
خطابات طاہر جلد دوم 344 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء توبیخ کرو،اسے سمجھا دیا سختی سے ڈانٹو۔اس سے زیادہ کی تمہیں اجازت نہیں ہے۔كما يعذر علی اظهار المنكرات یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسے ہر نا پسندیدہ چیز کو تم روکتے ہو اور نا پسند کرتے ہو، اس سے زیادہ شریعت میں اس کا کوئی حکم نہیں۔پس وہ دعوے کہاں گئے کہ تمام امت کا اجماع ہو چکا ہے اور اس اجماع کی رو سے تمام امت کا مسلسل یہی فتویٰ چلا آ رہا ہے کہ شاتم رسول کو اور گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزادی جائے۔وہ اجماع بھی ٹوٹا اور بڑے زور اور قوت کے ساتھ ٹوٹا ہے لیکن میں اعلان کرتا ہوں، خدا گواہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا یہ مسلک ہے کہ ساری دنیا کے اجماع بھی دعویٰ کریں ، اگر وہ اجماع قرآن کے خلاف ہوگا تو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا، اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔اگر وہ محمد رسول اللہ کے عظیم کردار کے خلاف ہوگا تو اس اجماع کی کوئی کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ہے۔محمد رسول اللہ کا جو کر دار قرآن نے پیش فرمایا ہے، الہبی تعلیمات جو قرآن نے پیش فرمائی ہیں وہ کھلی کھلی محکمات ہیں۔ان کے خلاف یہ تمام رطب و یا بس ایک ذرہ ، کوڑی کی بھی حیثیت نہیں رکھتے اور پھر عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کی وہ آیات جو کھلم کھلا یہ واقعات بیان کرتی ہوئی ان امور پر بحث کرتی ہیں ان کا ذکر تک بھی یہ نہیں کرتے۔وہ احادیث بھی تو دیکھنی چاہئیں تھیں جن میں واضح طور پر گستاخی رسول کے واقعات درج ہیں، لکھے گئے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے نہ خود اس کی سزادی نہ کسی کو سزا دینے کی اجازت دی، عبد اللہ بن ابی بن سلول کا واقعہ میں آپ کے سامنے پیش کر چکا ہوں۔اب سیے احادیث میں سے چند نمونے مسند امام احمد بن حنبل جلد ثانی صفحہ 221 پر صحیح مسلم کتاب السلام میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔لکھا ہے ، ابوعبداللہ بن عمر سے روایت ہے۔ان اليهود اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت السام علیک و قالوآ فی انفسهم لولا يعذبنا الله بما نقول فانزل الله عز وجل وإذا جاء وک حیوک بمالم یحیک به الله وقرأ الى قوله وبئس المصير (مسند احمد حدیث نمبر: ۶۷۶۴) عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔(یعنی تانیث کا صیغہ یہ مطلب نہیں کہ یہودی تھی ، اکٹھے جمع کے لئے بھی قوم اکٹھی ہو تو اس کے لئے تانیث کا صیغہ استعمال ہوتا ہے) پس ترجمہ اس کا صحیح یہ ہے کہ کچھ یہودی آنحضور ﷺ کی خدمت