خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 336

خطابات طاہر جلد دوم 336 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء جائے۔وہ نا قابل اعتبار انسان ہے، ایک ایسا شخص جس پر محقق علماءلکھ چکے ہیں کہ وہ نا قابل اعتماد ہے۔اس کی روایت پر تمام بنی نوع انسان کا امن اٹھا دیا جائے ، یہ کہاں سے عقل انہوں نے حاصل کی ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ خدا کی پیدا کردہ معقل کو مسخ کئے بغیر یہ نتیجے نہیں نکالے جاسکتے۔لسان المیزان میں اور تہذیب التہذیب میں جو اسماء الرجال کی چوٹی کی کتابیں ہیں۔جن میں راویوں پر ابن حجر نے بہت ہی عمدہ تحقیق فرمائی ہے اور بہت عمدہ بحث فرمائی ہے وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو حدیث ہے وہم کا نتیجہ ہے ، وہم کے سوا کچھ نہیں۔غلط غَلَطاً فَاحِشَاً اس ظالم راوی نے بخش غلطی کی ہے غلط غَلَطاً فَاحِشاً پرگورنر صاحب پنجاب فتوے جاری کر رہے ہیں۔اسی طرح ابن جریر نے ان کی بہت سی ، اکثر روایتوں کو یا بہت سی روایتوں کو موضوع قرار دیا ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا گیا ہے، ان میں کوئی اصل نہیں۔یہ ہیں وہ Socalled حدیثیں یعنی مبینہ حدیثیں جن پر ان ظالموں کے فتوؤں کی بنیادیں ہیں۔ایک حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد البیمی المتوفی ۵۸۰۷، ۸۰۷ ہجری کے ایک مصنف کی صلى الله ایک کتاب کا حوالہ دے کر جو رسول کریم ہے کے ۸۰۷ سال بعد مرا ہے۔اس پر بنا کرتے ہوئے یہ روایت ایک بیان کرتے ہیں یہاں حضرت علی والی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب سے منسوب روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو قتل کا حکم دیا ، جو رسول کریم ﷺ کی گستاخی کرتا تھا یا عورت تھی جو گستاخی کرتی تھی اس کے قتل کا حکم دیا۔اس حدیث کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ حدیث طبرانی اور جامع الصغیر للسیوطی اور دوسری بعض کتب میں بھی یہ حدیث ملتی ہے لیکن اس کا راوی عبداللہ ابن محمد الا مری وہ کیسا انسان تھا۔اس کے متعلق علماء حق لکھتے ہیں رماہ النسائي بالكذب امام نسائی نے اس کے قطعی طور پر جھوٹا ہونے کا فتویٰ دیا۔ایک ایسا راوی جس کے قطعی طور پر جھوٹا ہونے کا فتویٰ امام سعی دے چکے ہیں، یہ معلوم ہونے کے باوجود اس کو فتوؤں میں داخل کیا جار ہا ہے اور اس کے نتیجے میں قرآنی تعلیم تبدیل کی جارہی ہے۔محمد ناصرالدین البانی اپنی کتاب سلسلہ الا حادیث الضعیفہ والموضوعہ میں اس روایت کو بطور مثال کے ایک جھوٹی گھڑی ہوئی روایت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔انہوں نے بھی لسان المیز ان کے حوالے سے عبید اللہ بن محمد الا مری کو قیس بالکذب بیان فرمایا ہے۔یعنی ایسا جھوٹا ہے جو جھوٹ پر پوری طرح قائم اور ہمیشہ قائم رہنے والا تھا۔