خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 335

خطابات طاہر جلد دوم 335 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء بگاڑنے کی کوشش کی ہے اس کی چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس سے آپ اندازہ لگائیں گے کہ قوم کن ظالم ہاتھوں میں جا چکی ہے، جہاں پنجاب کے گورنروں کے دماغ کی ایچ یہ ہو، جہاں ان کی فطرت ان باتوں کو ساتھ کر رہی ہو جن کو ساری دنیا کی انسانی فطرت دھکے دے رہی ہے۔وہاں عوام الناس کا کیا حال ہوگا، وہاں گوجر انوالہ میں واقعات اگر ہوں گے تو ہوتے رہیں گے کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔پس میں ان کی مثالیں دیتا ہوں ،سنن بیہقی کی روایت ہے۔اب سنن بیہقی وہ کتاب ہے جس میں تمام حدیث کی کتابوں میں سب سے زیادہ غلط روایتیں اکٹھی کی گئی ہیں۔ایسی فرضی باتیں ہیں کہ ان کو پڑھتے پڑھتے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرف یہ باتیں منسوب ہیں اور چھ سو سال کے بعد وہ محدث صاحب حدیثیں اکٹھی کر رہے ہیں۔وہ حدیثیں جن کا پہلی صدیوں میں نام ونشان بھی نہیں ہے اگر ڈھونڈنی ہوں تو بیہقی میں جا کے ڈھونڈ لیں چنانچہ انہوں نے بیہقی کو ایک مستند کتاب بنا کر اس سے ایک روایت پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوعلی روز باری کی روایت ہے کہتے ہیں ابوعلی الروز باری نے ہم سے روایت کی ہے اور آخری روایت یہ بنتی ہے کہ ایک یہودی عورت آنحضرت علی کو گالیاں دیا کرتی تھی ، آنحضرت کے متعلق بد گوئی کرتی تھی۔ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل قرار دے دیا ( یعنی اس کا بدلہ نہ دلوایا )۔اس سے کیا استنباط ہوتا ہے اگر یہ حدیث درست ہو تو اس سے کیا استنباط ہوتا ہے؟ وہی جو میں بیان کر چکا ہوں کہ ہر مسلمان کو حق ہے کہ کسی کا گلا دبا دے، گھونٹ دے، ماردے قتل کر دے اور بعد میں اگر وہ یہ کہہ دے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں صلى الله دیتا تھا یا دیتی تھی تو اس کا خون حرام اور جس کو قتل کیا گیا اس کا حلال ہو گیا۔یہ اسلام ہے؟ نعوذباللہ من ذالک جو دنیا میں پنپنے کے لائق اسلام ہے؟ انسانی فطرت اس تصور کو دھکے دیتی ہے ، قبول کر ہی نہیں سکتی۔لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ اس حدیث کی اصل کیا ہے اس کی حیثیت علماء نے کیا بیان فرمائی ہے؟ اس روایت میں ابو علی الروز باری کا ذکر ہے جسے اسماء الرجال نے ضعیف قرار دیا ہے۔اسماعیل الصفاء لکھتے ہیں کہ ابو علی الروز باری احمد بن عطالا یــعـــمـد عـلیہ کبھی اس پر اعتماد نہ کیا