خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 303
خطابات طاہر جلد دوم 303 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء کے طور پر سر پر آبیٹھا ہے کہ جو ہمارے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے۔“ اور واقعہ ہر قسم کے لباس کا انسان کے کردار سے ایک گہرا واسطہ ہو جاتا ہے اگر لباس غیر ذمہ دارانہ ہو، نگا اور بے حیائی کا لباس ہو تو ایسا شخص ہر جگہ بے حیائی کی دعوت دیتا پھرتا ہے، خواہ زبان سے بولے یا نہ بولے۔اگر لباس میں تقوی شعاری ہو اور ذمہ داری پائی جائے تو ایسے شخص سے لوگ بھی اپنی تو قعات اونچی رکھتے ہیں اور اس کا ضمیر بھی اسے یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم کون ہو اور تم سے کیا توقعات وابستہ ہیں۔ایک مربی صاحب لکھتے ہیں: 66 وہ احباب جو بھول کر بھی جمعہ ادا نہیں کرتے تھے۔“ یعنی اندازہ کریں کہ بعض علاقوں میں اتنی لمبی دوری کے نتیجے میں کیسے کیسے تربیتی مسائل پیدا ہو چکے تھے۔کہتے ہیں: وہ احباب جو بھول کر بھی کبھی جمعہ ادا نہیں کرتے تھے اب بفضلہ تعالیٰ ان خطبات کے فیض سے نہ صرف یہ کہ خطبات سنتے ہیں بلکہ جمعہ اور باقی نمازوں میں بھی نسبتاً بہت بہتر ہو گئے ہیں۔بلکہ ان میں ایک مثال تو ایسی ہے کہ جنہوں نے کبھی پندرہ سال سے روزے نہ رکھے تھے مگر اب تمام روزے رکھ رہے ہیں اور تو اور اعتکاف بھی بیٹھے ہیں۔“ ایک اقتباس United Arab Emirates سے ایک دوست کا ہے۔وہ کہتے ہیں: " یکم جون کو میں۔U۔A۔E کی ایک سٹیٹ سے دوسری سٹیٹ کی طرف جا رہا تھا ، یہ عید کا دن تھا ( یعنی عید قربانی کا دن تھا ) راستے میں ریگستان اور خشک پہاڑیوں کا طویل سلسلہ ہے وہاں سے جب میں گزر رہا تھا تو راستے میں ریڈیو کے پروگرام کی Searching کرتے وقت اچانک آپ کی آواز سنائی دی، اس وقت آپ عید کی نماز پڑھا رہے تھے۔اس وقت میری خوشی کی انتہا نہ رہی ، میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں چیخ چیخ کر لوگوں کو اکٹھا کروں اور بتاؤں کہ یہ جو آواز عرب کے ریگستانوں میں گونج رہی ہے، یہ سچائی کی آواز ہے۔اس