خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 302

خطابات طاہر جلد دوم 302 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء پس دیکھو خدا نے کس شان سے اس کے اخلاص کو بھی قبول فرمایا، اس کی مرادیں پوری کر دیں اور وہ جو مہینے کے خرچے کی فکر تھی وہ خدا نے خود دور فرما دی۔ایک صاحب لکھتے ہیں۔بذریعہ ڈش انٹینا خطاب سن کر ایسے لگتا ہے جیسے خشک سالی سے اور دھوپ کی تیزی سے زمین خشک ہو جائے ، ہر طرف پژمردگی چھائی ہوئی ہو یکدم باران رحمت برس پڑے اور کملائی ہوئی کونپلیں اور پودے دوبارہ جی اٹھیں اور ان پر جمی ہوئی گرد بھی دھل گئی ہو۔میری زبان تو اس نعمت کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہے، اللہ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔“ چھوٹی چھوٹی باتیں بچے نو جوان لکھتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے کس طرح اس ذریعے سے تربیتی فیض جماعت کو پہنچائے ہیں۔میں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ نمازوں میں ٹوپی پہن کر آیا کرو کیونکہ ہر قوم اور ہر مذہب کی ایک تہذیب ہوتی ہے اور مذہبی معاملات میں اس مذہبی تہذیب کی رعایت رکھنی چاہئے۔مغرب میں یہ دستور ہے کہ جب کسی بڑے کے سامنے جائیں تو ٹوپی اتار لیتے ہیں کسی کی تعریف کرنی ہو تو کہتے ہیں Hats Off to You ہم ہیٹ اتار کے تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں، ججوں کے سامنے جائیں تو ٹوپی اتار کر بیٹھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دربار میں ٹوپیاں پہنائی ہیں، عزتیں اتاری نہیں۔اس لئے اسلامی سنت یہی ہے کہ خدا کے دربار میں جو جائے عزت اتارنے کے لئے نہیں عزت حاصل کرنے کے لئے جائے اور اپنا تقویٰ ، اپنا حسن اور اپنی عزت لے کر جائے۔یہ جب میں نے سمجھایا تو اس سلسلے میں بہت سے بچوں اور نو جوانوں کے دلچسپ خطوط ملے۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ۔” میں نے حضور کے ارشاد پر سب کی باتوں کی پرواہ کئے بغیر ٹوپی پہنی شروع کر دی ہے، غیر احمدی کہتے ہیں کہ یہ قائد اعظم کی ٹوپی کہاں سے لے آئے ہو، کسی نے کہا جو نیجو مرحوم کی ٹوپی لے آئے ہو، کسی نے کچھ کسی نے کچھ کہا۔مجھے تو اس سے تبلیغ کا بہت موقعہ ملا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں ہمارے امام نے ہمیں یہ فرمایا اور ہم نے اطاعت کی۔ٹوپی پہن کر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی گواہ