خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 285

خطابات طاہر جلد دوم 285 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء اس کے سوا کوئی نجات کی راہ نہیں ہے۔فارس کے بیٹوں میں اول درجے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے اور پھر وہ سارے احمدی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اولاد ہیں۔پھر فرمایا وبشر الذين امنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم ( تذکرہ: ۱۹۷) وہ جو تجھ پر ایمان لائیں گے اور توحید خالص سے وابستہ ہو جائیں گے ان کو یہ خوشخبری دو کہ خدا کے نزدیک ان کا قدم سچائی پر ہے اور جس کا قدم خدا کے نزدیک سچائی پر ہو کوئی دنیا کی طاقت اسے متزلزل نہیں کر سکتی۔پس آپ کے قیام اور آپ کے ثبات کا ایک ہی راز ہے کہ آپ تو حید پر قائم ہو جائیں اور خدا کے نزدیک آپ کا قدم صدق پر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔غرض یہ دو خبیث مرضیں ہیں جن سے بچنے کے لئے کچے مذہب کی پیروی کی ضرورت ہے یعنی اول یہ مرض کہ خدا کو واحد لا شریک اور متصف بتمام صفات کا ملہ اور قدرت تامہ قبول نہ کر کے اس کے حقوق واجبہ سے منہ پھیرنا۔“ ( نصرة الحق روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰) دوہی مرضیں ہیں جو دنیا کو ہلاک کر رہی ہیں۔ایک یہ کہ تمام صفات حسنہ کو خدا کی طرف منسوب نہ کرنا اور اس سے کسی اور طرف منہ پھیر لینا اور ایک نمک حرام انسان کی طرح اس کے ان فیوض سے انکار کرنا جو جان اور بدن کے ذرے ذرے کے شامل حال ہیں۔کتنا بڑا مضمون اور وسیع مضمون ہے انسان کے لئے غور اور فکر کا۔آپ کے ذرے ذرے میں، آپ کے بدن کے ذرے ذرے میں خدا تعالیٰ کے احسانات شامل ہیں۔کسی ایک ذرہ بدن پر بھی آپ غور کریں اور اس میں ڈوب کر دیکھیں تو ان احسانات کا شمار ممکن نہیں۔ہے۔بہت ہی وسیع مضمون ہے اور دنیا کے تمام سائنسدانوں نے اب تک جتنی دریافت کی ہے، جو کچھ حاصل کیا ہے وہ تمام تر بھی اگر بیان ہو جائے تب بھی خدا تعالیٰ کے ان احسانات کا احاطہ نہیں کرسکتا جو ہر ذرہ تخلیق میں مضمر ہیں۔ایک لامتناہی کہانی ہے، ہمیں ارب برس گزر چکے ہیں کہ جبکہ Big Bang کے ذریعے دنیا یعنی کائنات کا یہ دور وجود میں آیا جس میں ہم ہیں اور اس تمام نہیں ارب سالوں کے عرصے میں جس کا تصور بھی ایک عام انسان نہیں کر سکتا کہ کتنا لمبا عرصہ ہے ایک لامتناہی