خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 175
خطابات طاہر جلد دوم 175 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء نام کا واسطہ دے دے کر اسلام کی عزت اور ناموس کے صدقے کہہ کہہ کر قوم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہمیں بھی اٹھاؤ۔اگر کسی اور وجہ سے نہیں تو احمدیوں کی مخالفت ہی میں ہم سے کام لو۔چنانچہ بعض بدنصیب اندھے سیاست دان ان کے قابو آئے اور اب یہ پیر تسمہ پا بن کر ان کی گردن پر سوار ہیں۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان سے منافرت ملک میں دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے اور وہ لوگ جو احمدیوں کے گھروں پر گالیاں لکھتے ہیں اور لاؤڈ سپیکروں کے رخ ان کے گھروں کی طرف کر کے دن رات ان کو کوستے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتے ہیں ہر طرف سے مجھے یہ اطلاعیں مل رہی ہیں کہ عوام الناس پھر دن رات ان کو گالیاں دیتے ہیں اور یہ عوام کا اپنے علماء کو گالیاں دینے کا رجحان دن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ لکھا کہ عزت مجھ کو اور تجھ کو ملامت آنے والی ہے ( در نشین : ۹۴) تو امر واقع تو یہ ہے کہ یہ الہامی پیش گوئی پوری ہو چکی ہے۔دشمن تو گالیاں دیا کرتا ہے دشمن کی ملامت تو کوئی حیثیت نہیں رکھتی مگر وہ لوگ جو اپنے قائدین کو گالیاں دینے لگیں اور ان کے نام کو ذلت سے یاد کریں اور ان کا ذکر کر کے ان پرلعنتیں ڈالیں اور کہیں ہم تو وقت کا انتظار کر رہے ہیں کب حالات بدلیں تو ہم ان کو مزہ چکھا ئیں۔یہ ہے حقیقی ذلت جو اس وقت ملاں کا مقدر ہو چکی ہے اور بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس لئے آپ اطمینان اور صبر کے ساتھ خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے دکھوں کے یہ چند دن جتنے بھی ہمارے مقدر میں لکھے ہوئے ہیں ان کو کاٹتے چلے جائیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ جو رحمتیں تمام دنیا میں احمدیت کوگھیر چکی ہیں ، جو احمدیت پر سایہ کئے ہوئے ہیں جو فضلوں کی بارش بن کر برستی ہیں۔وہ آپ کے گھر تک بھی پہنچیں گی اور خدا تعالیٰ وہاں بھی حالات کو تبدیل کر دے گا اور آپ کی تشنگی بھی دور ہوگی لیکن جب آپ کل اور پرسوں میری دوسری تقاریر میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ذکر کو سنیں گے تو میں جانتا ہوں کہ جو پاکستان سے تشریف لائے ہوئے دوست ہیں ان کے دل بھی دھل جائیں گے ، وہ بھی خدا کا شکر ادا کریں گے کہ اے خدا! جو قربانیاں ہم نے دیں ان کے مقابلے پر تو نے اپنے فضل نازل فرمائے ہیں کہ اگر یہ ان کا نتیجہ