خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 153
خطابات طاہر جلد دوم 153 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۸۸ء سے انکار کیوں ہے؟ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی سوائے اس کے کہ یہ فرار کا بہانہ ہے۔یہ ڈر رہے ہیں خوف کھا رہے ہیں جانتے ہیں کہ خدا کا ایک قہری نشان ظاہر ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ ان کو نہیں چھوڑے گا۔اگر انہوں نے مباھلے کو کھلم کھلا تسلیم کیا لیکن ان کو میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ان شرارتوں اور دروغ گوئی سے باز نہیں آئے اور فرار کے اس طرح بہانے ڈھونڈتے رہے کہ دنیا کو مزید دھو کے میں مبتلا رکھیں اور ان کو پتا نہ لگے کہ خدا کس کے ساتھ ہے تو خدا خودان دھوکوں میں مبتلا نہیں کیا جاسکتا ہمارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ تم فرار ہونے کی کوشش کرو تب بھی خدا کی لعنتیں تمہارا تعاقب کریں گی اور خدا کی لعنتیں تمام دنیا پر ظاہر کر دے۔کہ بیچ مرزا غلام احمد قادیانی اور آپ کی جماعت کے ساتھ ہے اور آپ کے منکرین اور مکفرین کے ساتھ نہیں ہے اس لئے تو بہ اور استغفار سے کام لیں اور تمسخر اور تضحیک کو چھوڑ دیں۔واقعہ یہ ہے کہ دعوت مباھلہ قبول کرنے والے جتنے علماء کی قبولیت کے دعوے کا میں نے مطالعہ کیا ہے ان سب نے فرار کی ایک بیچ لگا رکھی ہے اس لئے میں جماعت احمدیہ کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ جس طرح ہم پورے اطمینان کے ساتھ خدا پر توکل رکھتے ہوئے اور کامل یقین کے ساتھ لعنت ڈال رہے ہیں جھوٹے پر تم کیوں ڈرتے ہو اس بات سے اگر کسی جگہ کا ہونا ضروری ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ تم پر لعنت نہ پڑے لیکن فرار کی لعنت سے تو بچ جاؤ گے۔اس لئے جرات کے ساتھ آگے بڑھو اور غیر مشروط طور پر اعلان کر دو اور واقعہ یہ ہے کہ یہ سارے علماء اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ ایک مقام پر اکٹھا ہونا ضروری نہیں۔اگر یہ ایسا نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الزام نہ لگاتے کہ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ مباھلے میں ہار گئے تھے کیونکہ وہاں تو کسی مقام پر ا کٹھے نہیں ہوئے تھے ایک مقابلہ تھا ، ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں اس الزام سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی ثناء اللہ سے مقابلہ میں ہار گئے تھے اور یہ مباھلہ تھا یہ جانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ مباھلہ تحریری طور پر ہوا تھا۔پس آجکل کے زمانہ میں جبکہ اخبارات میں ریویو میں کثرت سے خبر میں شائع ہو جاتی ہیں اکٹھے ہونا ضروری نہیں ہے اور پھر ان کی نیتیں فساد کی ہیں اور فساد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس پر قتل وغارت کریں اور پھر کہہ دیں ابھی مباھلہ شروع نہیں ہوا تھا کہ مارے گئے ہمارے ہاتھوں ، خدا کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں اور اپنے دشمنوں کے