خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 137

خطابات طاہر جلد دوم 137 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء کے شعلوں کو اٹھانا پہلے سے بہت زیادہ ضروری ہو جایا کرتا ہے۔کیا آپ نے کبھی ایسے غریب کے گھر کو نہیں دیکھا جس کے پاس ماچس کی تیلیاں نہیں ہوتیں وہ راکھ میں انگاروں کو سمیٹ کر رکھتا ہے اور باہر سے آنے والا بسا اوقات یہ سمجھتا ہے کہ اس غریب کا چولہا ٹھنڈا پڑ گیا ہے لیکن جب ضرورت پڑتی ہے تو اسی راکھ کو کریدتا، اس کے انگاروں کو پھونکیں مارتا اور ان سے ایک نئی آگ روشن کر لیا کرتا ہے۔خدا کی قسم محمدمصطفی ﷺ کی امت میں شرافت کے انگارے اس سے بہت زیادہ قوت کے ساتھ موجود ہیں اور خدا کی قسم آپ کے تقویٰ کی پھونکیں ان انگاروں کو شعلہ ہائے نور میں تبدیل کر دیں گی اس لئے ہرگز مایوس نہ ہوں۔آپ کی قوم، آپ کی وطن کی محبت کے تقاضے تو الگ رہے محمد مصطفی امی ہے کے دین کے تقاضے آپ کو ان نیکیوں کی طرف بلا رہے ہیں لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں۔اب ہم افتتاحی دعا میں شریک ہو جاتے ہیں ، جس حد تک بھی آپ کا ذہن ان امکانات تک پہنچتا ہے جن میں دعاؤں کی ضرورت ہے ان احتمالات تک پہنچتا ہے جس میں دعاؤں کی ضرورت ہے اپنے تصور کو دوڑائیں اور دعائیں کریں۔سب سے اعلیٰ ، سب سے افضل ،سب سے جامع اور مانع دعا سورۃ فاتحہ ہے۔اس لئے یہ بھی عادت ڈالیں کہ سورۃ فاتحہ کو بار بار مختلف زاویوں سے الٹ پلٹ کر نئے نئے مطالب اپنی ضرورتوں کے مطابق اس کے سانچے میں ڈھال کر خدا سے اس سورۃ فاتحہ کے ذریعہ دعا کی عادت ڈالیں چونکہ اسی کا نام فاتحہ ہے یعنی اس کا ایک نام فاتحہ ہے اس لئے ہر افتتاح پر اس کا پڑھا جانا ضروری ہے اور ہر افتتاح کے لئے اس سے بہتر اور کامل دعا اور کوئی ہو نہیں سکتی۔اس لئے آج ہی اس بات پر عمل شروع کریں۔اس سے پہلے بہت سے احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں جانتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ جیسی عظیم الشان دعا اور کوئی نہیں ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن آج خصوصیت کے ساتھ سورۃ فاتحہ کے مطالب میں گھل مل کر اپنی ضرورتیں سورۃ فاتحہ کی کشتی میں سجا کر اپنے رب کے حضور پیش کریں۔