خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 136

خطابات طاہر جلد دوم 136 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء قربانی کے نتیجے میں آپ کے رزق پر کوئی زدنہیں آئے گی۔پس پاکستان کے احمدیوں کے لئے جیسا کہ پہلے ضروری تھا آج بھی ضروری ہے بلکہ بہت بڑھ کر ضروری ہے کہ اپنے ان بھائیوں سے بھی حسن سلوک کریں جنہوں نے ظلم کے وقت آپ کے تماشے دیکھے اور آپ کی مدد نہیں کی اور وہ جنہوں نے تماشے دیکھے اور مدد کے لئے کوشش کی ان کا تو آپ پر دہر احق ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْاِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) ان کی اس نیکی کو نہ بھولیں اور ان سے پہلے سے بہت بڑھ کر احسان کا معاملہ کرنے کی کوشش کریں اور اپنی گفتگو میں ان لوگوں کو جو احمدیت سے باہر ہیں سخت الفاظ سے یاد نہ کیا کریں۔قرآن کریم ان لوگوں کو جو اسلام سے باہر ہیں سخت الفاظ سے یاد نہیں کرتا سوائے اس کے کہ ان لوگوں کا ذکر علیحدہ کرتا ہے جو بدیوں میں مبتلا ہیں۔اس کے باوجود ان میں سے پاک نفس لوگوں کا الگ ذکر فرماتا ہے ان کی خوبیوں کا اقرار کرتا ہے۔اگر کوئی احمدی من حیث الجماعت ہر اس فرقے اور ہر اس جماعت کو رد کرنا شروع کر دے جس کا احمدیت سے تعلق پیدا نہیں ہو سکا اور ان کے ہر فرد کو نعوذ بالله من ذلك جہنمی قرار دینا شروع کر دے تو یہ قرآن کریم کی تعلیم کے سراسر منافی بات ہوگی۔اپنے دلوں کے حوصلے قرآن کریم کے مطابق بنائیں ، حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی وسعتیں اپنانے کی کوشش کریں ، تقویٰ اور سچائی کی بات کریں۔جہاں کسی میں برائی دیکھیں وہاں برائی کا ذکر اس رنگ میں کریں کہ چڑانے کی بجائے اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو۔جہاں کسی خوبی کو دیکھیں وہاں اس خوبی کا اقرار کریں۔بہت شریف النفس لوگ ان میں موجود ہیں جہاں تک میرا مطالعہ ہے بہت بڑی تعداد شرفاء کی ایسی موجود ہے جو بات محسوس کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے دور جا پڑے ہیں اس لئے خاموش ہو گئے ہیں۔ہم جو کہتے ہیں کہ شرافت گونگی ہوتی ہے تو اس سے یہی مراد ہے کہ قوموں پر بد قسمتی سے ایسے وقت آتے ہیں کہ شریف النفس لوگ اپنے دلی جذبات کا کھل کر اقرار نہیں کر سکتے ، کھل کر اظہار نہیں کر سکتے ، نہ ناپسندیدگی کے اظہار کے لائق رہتے ہیں نہ پسندیدگی کے اظہار کے قابل رہتے ہیں۔وہ یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ہوا کس طرف کی چل رہی ہے اس طرف کی بات کر دیں لیکن اندرونی طور پر ان میں شرافتیں موجود ہیں اور ابھی زندہ ہیں۔جہاں شرافتیں ڈوب رہی ہوں جہاں شرافتوں کو خطرہ لاحق ہوا نہیں کرید کر ان کی تلاش کر کے انہیں اجاگر کرنا ، انہیں زندہ کرنا، ان