خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 122
خطابات طاہر جلد دوم 122 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء مصروف ہو چکے ہیں، وہ شوق سے تشریف لائے تا کہ اپنے پرانے سکول کو دیکھیں یہاں آ کے جو انہوں نے حالت دیکھی، وقار عمل دیکھے کس طرح پیار اور محبت سے لوگ خدمت کر رہے ہیں تو ان کی طرف سے نمائندہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کام آپ نے کر کے دکھایا ہے ہماری حکومت کے نمائندے بھی اگر چاہتے تو اس طرح نہیں کر کے دکھا سکتے تھے۔پس ان کے لئے بھی دعا کریں اور یہ سارے دن حمد و ثنا میں گزاریں، اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے گیت گائیں اور خدا کا شکر ادا کریں کہ جس طرح مخالفت کی موج اٹھی تھی آپ کو دبانے کے لئے اس سے سینکڑوں گنا قوت کے ساتھ اللہ کی تقدیر آپ کو اُبھار رہی ہے اور ہمیشہ بھارتی رہے گی۔اس کے بعد حضور انور نے لمبی اور پُر سوز دعا کروائی۔دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ ابھی جلسہ جاری رہے گا، ابھی دوسرے اجلاس کی کارروائی شروع ہوگی جس میں ایک بہت ہی اہم تقریر برادرم مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی ہے، امریکہ میں بھی انہوں نے اس موضوع یہ تقریر کی تھی اور واقعی بہت ہی اعلیٰ پائے کی تقریر ہے جو سننے سے تعلق رکھتی ہے۔اس لئے امید ہے سب دوست اسی طرح بیٹھے رہیں گے امن کے ساتھ جس طرح اب تک بیٹھے رہے ہیں۔السلام علیکم