خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 115

خطابات طاہر جلد دوم 115 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء سلسلے میں بہت سی دلچسپ باتیں انشاء اللہ میں کل کی تقریر میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پاکستان کی حکومت کا پروپیگنڈا اگر چہ بہت ہی نا قابل برداشت اور نہایت تکلیف دہ اور بہتان تراشی سے پر ہے، مگر میں جماعت کو مطمئن کرتا ہوں کہ اللہ کی تقدیر خود اس کے خلاف کام کر رہی ہے اور برعکس نتیجے پیدا کر رہی ہے۔ہاں ایک،صرف ایک عیسائی پادری ہے جو پاکستان کی آواز کو سمجھا ہے اور اس کے پیغام کو اس نے قبول کیا ہے اور وہ عیسائی پادری ناروے کا ہے۔وہ یہ بات خوب سمجھ گیا کہ حکومت پاکستان کیوں مخالفت کر رہی ہے احمد یوں کی ، وہ جانتا ہے کہ عیسائی دنیا احمدیت کے سوا کسی اور اسلامی جماعت سے اس طرح نہیں ڈرتی جتنا احمدیت سے ڈرتی ہے اور حقیقت میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کی سکت اگر کسی کو ہے تو اس احمد یہ جماعت کو ہے اس لئے وہ یہ پیغام سمجھا کہ حکومت پاکستان ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ جب ہم انہیں غیر مسلم قرار دے رہے ہیں تو تم یہ آواز لے کر دنیا میں کیوں نہیں نکلتے اور جب یہ عیسائیت سے ٹکر لیتے ہیں تو تم کیوں نہیں ان کو کہتے کہ تم تو مسلمان ہو ہی نہیں اس لئے عیسائیت سے تم کیسے مقابلہ کر سکتے ہو۔پہلے اپنی حکومتوں سے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر آؤ تب ہم تمہارے سامنے مناظرے کے لئے آئیں گے۔چنانچہ ناروے کے اس بد نصیب پادری نے با قاعدہ ایک بیان شائع کروایا، ناروے کی زبان ذرا پڑھنی مشکل ہے اس لئے میں وہ اخبار کا نام نہیں پڑھ سکتا اور پادری صاحب کا نام بھی جس میں وہ شائع ہوا، بہر حال یہ مشہور بیان ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ احمدیت آج جو عیسائیت کے خلاف محاذ آرائی کر رہی ہے اسے اس کا کوئی حق نہیں کیونکہ احمدیت کو اسلام کی نمائندگی کا حق ہی حاصل نہیں۔حکومت پاکستان سے جب تک احمدیت یہ سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرے کہ یہ مسلمان ہیں اس وقت تک ہمیں ان سے ٹکر لینے کی کوئی ضرورت نہیں ان کو نظر انداز کر دو۔لیکن ایک پیغام تو ان کو وہاں ملا اور ایک اور پیغام خدا تعالیٰ کی تقدیر نے غانا میں اس طرح پہنچایا کہ وہاں Western Region کے ایک عیسائی پادری نے جب ان حالات کا موازنہ کیا اُن واقعات سے جو اس سے پہلے عیسائیت پر اور دیگر چی تحریکات پر گزرتے چلے آرہے ہیں، تو اُس