خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 112
خطابات طاہر جلد دوم 112 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء میں داخل ہو چکے ہیں اور 9 بچے تعلیم کی غرض سے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں داخل ہوئے ہیں۔یہ تعداد تھوڑی ہے، مجھے تسلیم ہے، گنتی کے چند ہیں مگر اسلام کے قریب لانے کی یہ ایک ایسی حسین کوشش ہے کہ اس ملک میں جہاں بالعموم یہ تاثر ہے کہ مسلمانوں کو سختی سے دبایا جارہا ہے وہاں اسلام کو ابھارنے والی اگر کوئی جماعت ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی کوششوں کے نتیجے میں وہاں ہندؤوں میں سے بھی لوگ مسلمان ہو رہے ہیں اور سکھوں میں سے بھی لوگ مسلمان ہورہے ہیں اور مسلمان ہونے والوں کے اندر ایک عجیب روحانی تبدیلی واقع ہورہی ہے۔ایک خط کا اقتباس میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ جب ہم اللہ کے فضل سے وہاں ہندوؤں کو مسلمان بناتے ہیں تو کس قسم کے مسلمان بنتے ہیں۔عبدالقیوم صاحب جن کا سابق نام جگدیش چندر تھا عرصہ ڈیڑھ سال سے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور اس عرصے میں بڑی محنت کے ساتھ انہوں نے اردو بھی سیکھی اور اسلام کی تعلیم بڑے شوق اور شغف سے حاصل کی۔آپ ان کا خط پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے، کیسی صاف اردو میں انہوں نے مجھے مخاطب کیا، اپنے ہاتھ سے یہ خط لکھ کر بھجوایا ہے۔لکھتے ہیں: اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے والدین، بیوی بچوں اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے انتہائی اذیت اور دکھ اٹھا رہا ہوں“۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ تو احمدیت کی تقدیر کا ایک لازمی حصہ ہے، ہر صداقت کے ساتھ یہ بات وابستہ ہے کہ جہاں صداقت کی روشنی پھوٹتی ہے وہاں اندھیرے لازماً کوشش کرتے ہیں اس کو دبانے کی۔اس لئے ہندوستان میں بھی ، جہاں جہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ترقی نصیب ہوتی ہے وہاں ایک رد عمل ہوتا ہے لیکن ایک فرق ہے، باہر کی دنیا میں حکومتوں کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ عوام کی طرف سے ہوتا ہے۔یہ ایک دنیا ہے جہاں عوام کی طرف سے نہیں ہورہا بلکہ حکومت کی طرف سے ہو رہا ہے۔وہ لکھتے ہیں : ایک دفعہ چند ماہ کے لئے قادیان چھوڑ کر جے پور کے علاقہ میں چلا گیا کہ شاید اس طرح ہی ان کی آتش مخالفت ٹھنڈی پڑ جائے۔اب جبکہ میں واپس آیا ہوں میرے سسرال والے آکر میرے بیوی اور بچوں کو مع