خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 62
خطابات ناصر جلد دوم ۶۲ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جو ابدی صداقتیں ہیں ان کے اطلاق کا ایکسی کیوشن (execution) کا زمانے کے لحاظ سے حالات کے لحاظ سے فرق پڑ جاتا ہے مثلاً ایک مستقل قانون ہے ملکی۔اگر چه قانون انسان کے بنائے ہوئے ناقص ہوتے ہیں۔وہ پوری مثال تو نہیں بنتے لیکن سمجھانے کے لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک قانون ہے۔تو اس قانون کے توڑنے والے دس آدمی جز کے پاس، قاضیوں کے پاس جاتے ہیں اور ہر حج کا فیصلہ مختلف ہوتا ہے۔اختلاف ہے حالانکہ فیصلہ اسی قانون کا ہے لیکن حالات کے مطابق ایک حج کے دماغ میں ایک بات آتی ہے اور حالات اور گواہیوں کے مطابق دوسرے حج کے دماغ میں ایک دوسری بات آتی ہے۔تو فرق پڑ جاتا ہے۔قرآن کریم کی ابدی صداقتوں کا انسانی مسائل کے بدلنے کے ساتھ اطلاق کس طرح کیا جائے یہ فرق آ جائے گا لیکن یہ شان ہے اسلام کی اور قرآن کریم کی کہ اس کا فیصلہ کرنا انسانی دماغ پر نہیں چھوڑا۔اب یہ کہتے ہیں جی ، ایک حصہ ایسا ہے دہریوں میں سے، جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دے دی اب شریعت کو مانا بھی جائے تو ٹھیک ہے ہم اپنی عقل سے کام لے کر قرآن کریم کے معانی حاصل کر لیں گے خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی زندہ تعلق رکھنے کی ضرروت نہیں۔یہ دعویٰ اتنا مضحکہ خیز ہے اسلام نے کہا کہ تمہاری عقل ناقص ہے اور میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے مضحکہ خیز کی دو مثالیں دیتا ہوں۔طب ہے۔میڈیسن، ایلو پیتھی جو ہے۔ہر پندرہ سال کے بعد ایک نیا فارمولا دنیا کے سامنے رکھ دیا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا ایک وقت میں یہ اعلان کیا کہ ماں اگر اپنے بچے کو دودھ پلائے گی تو بچے کی صحت بھی خراب ہو جائے گی اور ماں کی بھی خراب ہو جائے گی اور لاکھوں شاید کروڑوں ماؤں کو بیمار کر دیا ، نہ نہ نہ نہ۔بالکل بچے کو دودھ نہ پلانا تمہاری صحت خراب ہو جائے گی اور بچے کی بھی خراب ہو جائے گی اور چوسنیاں لگا دیں ان کو۔اور پتہ نہیں کتنا نقصان عورت کو پہنچانے کے بعد یہ اعلان کیا کہ بڑا افسوس ہے ہم سے غلطی ہو گئی اب ہم مزید تجربوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک ماں ہے۔اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے نہ بچے کی صحت اچھی ہوسکتی ہے اور نہ ماں کی صحت اچھی رہ سکتی ہے ہیں سال میں تم نے اتنا بڑا نوع انسانی کو نقصان پہنچانے کے بعد کہ لاکھوں ماؤں کی صحتیں خراب کر دیں اب آرام سے کہہ دیا کہ ہمیں بڑا افسوس ہے۔دوسری جو اس سے بھی واضح مثال