خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 61

خطابات ناصر جلد دوم ۶۱ اختتامی خطاب ۲۸ / د سمبر ۱۹۷۴ء رہا ہوں کہ تمہیں حق کا ہی نہیں پتہ تو تم نے انسان کو دینا کیا ہے؟ جس نے پیدا کیا وہی جانے۔غیر کو غیر کی خبر کیا ہو۔جس ہستی نے ، جس پاک ہستی نے ، قادر و توانا نے انسان کو پیدا کیا جس نے انسان کو استعدادیں اور قو تیں عطا کیں، جس نے انسانی فطرت میں فطری تقاضے پیدا کئے وہ بتا سکتا ہے کہ فطری تقاضہ یہ ہے اور انسان کی قوت یہ ہے فطری تقاضوں کی سیری ہونی چاہے اور انسانی قوتوں کی نشو ونما ہونی چاہئے اور یہ حقیقت ہے کہ ان کو نہیں پتہ۔کوئی شخص مجھے آج تک نہیں ملا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ نہ آئندہ ملے گا جو یہ ثابت کر سکے کہ اسلام کے اندر یہ کمزوری پائی جاتی ہے کوئی کمزوری نہیں۔دو چیزوں نے اس کو اس قابل بنایا، دو صفات جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بیان کی ہیں ان صفات کے نتیجہ میں حقیقت میں خدا کی قسم کھا کر اور علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ قرآن کریم کی یہ شان ہے کہ وہ قیامت تک کے لئے انسانی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ایک صفت تو اس میں یہ پائی جاتی ہے کہ صداقتیں پوری کی پوری اس میں موجود ہیں وہ صداقتیں بھی جو پچھلوں کے لئے ادھوری تھیں اور جو صداقت کا زائد حصہ تھا وہ بھی اس میں شامل کر دیا اور اس طرح ابدی صداقت جو زمانے کے ساتھ بدلا نہیں کرتی وہ بھی اس میں محفوظ کر دی گئی۔موٹی مثال یہ ہے کہ سچ بولنا ہے جھوٹ نہیں بولنا۔ہم میں سے بھی بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے یہ لکھ دیا۔پھر مجھے فکر پیدا ہوا کہ اپنے عقائد کا اعلان ہونا چاہئے اور بار بار اعلان ہونا چاہئے اور اس لئے بھی کہ جو اس سال ہوا کچھ تو ہمیں پتہ لگنا چاہئے کہ ہمارے عقائد کیا ہیں اور دوسروں کے ساتھ ان کا موازنہ کیا ہے لیکن موازنے کا یہ وقت نہیں ہے میں صرف اپنے عقائد بتاؤں گا۔مجھے غیر سے کیا۔میں چاہتا ہوں کہ میں اور آپ خدا تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے اس کو ذہن میں رکھیں اور بھٹکیں نہ اور بھولیں نہ۔اور وہ جو ایک چیز اس نے ہمیں دی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کا ایک ولولہ اور جذ بہ ہمارے دلوں میں پیدا ہو کیونکہ ہم سمجھیں کہ ایک تو یہ صداقت ہے اور دوسرے ہمارے کام کی چیز ہے۔تو ایک بات تو یہ ہے کہ ابدی صداقتیں ہمیشہ کے لئے اس میں محفوظ کر دی گئیں۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کئی طریقوں سے کی ہے وہ مضمون لمبا ہو جائے گا۔کسی اور وقت بیان ہوگا ویسے پہلے بھی بیان ہو چکا ہے بہر حال خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا اور ہم اسے ثابت کر سکتے ہیں کہ اس کی حفاظت کا انتظام