خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 559
خطابات ناصر جلد دوم ۵۵۹ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء اس سے آگے نہیں بڑھے۔جو سمجھ دار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کی اس کا ئنات میں جو خدا تعالیٰ کے جلوے ظاہر ہوئے اس کو اگر سمندر سمجھا جائے تو ہم کنارے پر کھڑے ہو کر ہم نے چند قطرے اٹھائے ہیں۔ابھی تو ہمیں پتہ نہیں کہ یہ سمندر کی حقیقت کیا ہے۔اس کی عظمت کیا ہے۔اس کی شان کیا ہے اس قدر بے شمار اللہ تعالیٰ کے جلوے اس پر ظاہر ہوئے اور کچھ کا کچھ اس کو بنا دیا ہمارے فائدہ کے لئے اور ہماری خدمت کے لئے۔صرف اللہ ہے ایک جو اپنی ذات کا کامل علم رکھتا ہے اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی ایسا وجود نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کا کامل علم رکھتا ہو۔نیچے اترتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی مخلوق کا بھی کوئی اور وجود کامل علم نہیں رکھتا۔خدا تعالیٰ کی اس کائنات کے کروڑویں حصہ کا بھی کامل علم نہیں رکھتا کوئی اور وجود۔اس لحاظ سے وہ لا شریک لہ کوئی اس کا شریک نہیں۔اس کے برابر کا نہیں ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہر وجو د خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہے اور ایک یہ بات کہ وہ علمُ الشَّهَادَةِ ہے۔کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں۔وہ پاک ہے اس بات سے کہ علم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان یا کوئی اور مخلوق یہ نظر نہیں رکھ سکتی۔اس میں بھی وہ لاشریک ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں جو خدا تعالیٰ کی طرح عَالِمُ الشَّهَادَةِ ہو کہ ہر چیز پر جس کی نظر ہو۔جس کی نظر سے کوئی چیز پردہ میں نہ ہو۔کوئی اور وجود نہیں ہے اس معنی میں بھی وہ لاشریک ہے۔پانچویں یہ کہ اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اُس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو۔ایک یہ غلط تصور پیدا ہوا بعض لوگوں میں کہ خدا تعالیٰ personal God نہیں یعنی ذاتی تعلق اپنی مخلوق سے نہیں رکھتا اور نہایت نا معقول دلیل یہ بنالی۔اتنی عظیم ہستی اس کو کیا پڑی کہ ہم حقیر انسانوں سے وہ ذاتی تعلق رکھے۔غلط ہے یہ دلیل اور باطل ہے یہ استدلال۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح وہ اکیلا۔اکیلا بغیر کسی شریک کے اپنی ذات کا کامل علم رکھتا ہے اسی طرح وہ بغیر کسی شریک کے اس کائنات کا کامل علم رکھتا ہے۔اُس نے اس کو پیدا کیا۔اُس نے ہر آن اس کی ربوبیت کی۔ہر وہ سیکنڈ۔ہر وہ لمحہ جو واقع یوں نہیں اگر خدا تعالیٰ کی نظر سے اوجھل ہو جائے تو اس کائنات سے اوجھل ہو جائے گا۔ہلاکت ہو جائے گی اُس کی۔فنا ہو جائے گا۔تو