خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 558

خطابات ناصر جلد دوم ۵۵۸ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء چند سیکنڈ میں پیدائش اور زندگی ختم ہو جاتی ہے یعنی پیدائش اور موت چند سیکنڈ کے فاصلے کے ساتھ آ جاتی ہے۔یہ شہد کی مکھی جو اتنا احسان آپ پر کر رہی ہے شہد بنا کر اس کے جو مزدور ہیں کام کرنے والے یعنی ان کی جو ملکہ ہے اس کے علاوہ سارے۔ان کی ساری زندگی پنتالیس دن سے ساٹھ دن ہے اور ان دنوں میں ایسا تغیر ان کے اندر آتا ہے جنہوں نے اُن پر تحقیق کی ہے وہ بھی حیران اور ہم جو اس تحقیق کو پڑھتے ہیں ہم بھی حیران۔خدائی شان دیکھ کے۔کوئی چند سیکنڈ زندہ رہتا ہے کوئی چالیس سال سے سو سال تک زندہ رہتا ہے انسان۔اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔ہمیشہ زندہ رہنے والا ، جس پر فنا نہیں اور ہمیشہ ایک حالت میں ساری طاقتوں او عروج کے ساتھ قائم رہنے والا جس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں۔وہ صرف ایک ذات ہے چوتھی قسم ہے تو حید کی۔اللہ واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔اب ایک اور پہلو سے اسے ہم دیکھتے ہیں۔اگر وہ لاشریک نہ ہو یعنی اگر اللہ ایک نہ ہو بلکہ بہت سے ہوں خدا۔تو پھر اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اُس کی طاقت پر اس کے دشمن خدا کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں اُس کی خدائی معرض خطر میں رہے گی۔تو اگر ایک سے زائد ہیں تو ہر ایک خدا کی خدائی معرض خطر میں رہے گی۔خدا ایک ہے اور اس کی خدائی کو کوئی خطرہ نہیں۔ازل سے ابد تک اپنی پوری شان کے ساتھ قائم ہے قائم رہے گا۔نمبر ۲۔کوئی پرستش کے لائق نہیں۔اس معنی میں شریک ہیں نا۔اس معنی میں کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جس کی صفات اور خُو بیاں اور کمالات سب سے اعلیٰ ہوں۔اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات میں کوئی ایک شی بھی ایسی نہیں کہ جس کی صفات اور خو بیاں اور کمالات جو ہیں وہ سب سے اعلیٰ ہیں۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات سب سے اعلیٰ ہیں۔وہ اس قدر کامل۔کمال کا مالک خدا ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا۔وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنیٰ کو شریک کرنا ظلم ہے اور حماقت بھی۔تیسرے یہ کہ سوائے اللہ کے اللہ کی ذات کو اور کوئی نہیں جانتا۔یعنی انسان جس نے علم کے میدانوں میں بڑی ترقی کی خدا کی مخلوق کے ایک حصہ کو جو پنجابی میں کہتے ہیں نا بھورنا۔