خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 548
خطابات ناصر جلد دوم ۵۴۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہائرسکینڈری سکول یعنی جو ایف۔اے ، ایف ایس سی تک ہے اچھے نتائج نکالنے والے، اچھے کھلاڑی پیدا کرنے والے اور با اخلاق انسان بنا کے ان کو باہر بھیجنے والے۔لڑائی ہوتی۔ہے اس بات پر کہ باپ بھی کہتا ہے کہ میں نے یہاں داخل کروانا ہے اور بیٹا بھی کہتا ہے میں نے احمد یہ میں داخل ہونا ہے۔( ان کی زبان میں احمدیہ سے مراد ہے ( احمد یہ سکول) اور جو سیاسی لیڈر ہیں وہ بھی اور جو سوشل لیڈر ہیں وہ بھی اور بڑے بڑے ماہر اقتصادیات یعنی سکالرز علمی لحاظ سے ان کے لیڈر ہیں وہ بھی ، وہ سارے یہ بات مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے سکول اور ہسپتال اور غیر کے سکول اور ہسپتال میں ایک فرقان اور مابہ الامتیاز پیدا کر دیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مومن سے قرآن کریم میں وعدہ کیا ہوا ہے۔نصرت جہاں ریزروفنڈ کے سلسلہ میں فرمایا ) اس وقت انہوں نے بھی اعداد غلط بتا دیئے تھے ایک سال کا بجٹ آمد و خرچ تین کروڑ گیارہ لاکھ چھتیس ہزار آٹھ سو چھبیس (۳،۱۱،۳۶۸۲۶) اور ریز رو بھی کافی وہاں پڑے ہوئے ہیں جہاں ہمیں کھڑا نہیں ہونے دیتا اللہ تعالی۔مثلاً ہسپتال ہے ایک بلاک ختم ہوا ہے ، ضرورت ہے، اگلا بلاک بناؤ۔اوزار ہیں منگوالو۔یعنی کسی جگہ (میں نے بتایا تھا نا وہ تو کہتا ہے۔يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (البقرۃ:۲۱۳) مجھے یہ سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے۔میں بڑا عاجز انسان ہوں اور خدا تعالیٰ پھر انتظام کر دیتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے اور میں تو حیران ہوں، حیرت میں گم ہوں اور اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عظمت میرے اس زمانے میں اس بات سے ثابت ہوئی کہ میرے جیسے عاجز انسان کو اس نے ہاتھ میں پکڑا اور اعلان کیا دنیا میں کہ اس ذرہ ناچیز سے میں دنیا میں انقلاب بپا کر دوں گا اور کر دیا۔(نعرے) سالِ رواں میں صدر انجمن احمد یہ اور دوسرے مرکزی ادارے جو ہیں تحریک جدید وقف جدید، انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ فضل عمر فاؤ نڈیشن وغیرہ ( زیادہ تر اس میں حصہ ہے صدرانجمن احمد یہ کا۔گزارے ہم دیتے ہیں لیکن ضرورتوں کا خیال بھی رکھتے ہیں ) نے جو ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے رقم خرچ کی ہے۔وہ اکیس لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔الحمد لله علی ذالک لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پھر بھی ہمارا کارکن قربانی دے کر کام کر رہا ہے۔وہ