خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 541
خطابات ناصر جلد دوم ۵۴۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء گئے۔تب تم ہمارے پاس آگئے ہو یہاں۔ان کا یہ ہے کہ ایک احمدی نے مجھے بتایا کہ میں اپنی موٹر چلا تا رہا تھا۔اس کے پاس۔یہ ریڈیو Amateur والا۔تو کہنے لگا اگلی کار کسی وجہ سے اُلٹی۔اس نے نہیں دیکھی کیوں اور یوں کئی اس نے چکر کھائے اور زخمی ہو گئے اس کے آدمی۔کہتا ہے میں نے کار کھڑی کی۔اسی وقت اپنا وہ ریڈیو چھوٹاAmateur والا اون (on) کیا اور پانچ منٹ کے بعد وہاں پہیلی کا پر لینڈ کر گیا ان کی مدد کے لئے۔ہم فخر کرتے ہیں۔ہے فخر کی بات کہ ایک عورت کی آواز پر قاسم کو سندھ بھیج دیا گیا تھا تا کہ اس عورت کے دکھ کو دور کیا جائے۔تو ہمارے تعلقات ہونے چاہئیں۔ہر ایک کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہمارے بھائیوں کے حالات کیسے ہیں؟ ساری دنیا کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہم کن حالات میں سے گزر رہے ہیں اور ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کن حالات میں سے گزر رہے ہیں اور یہ سکیمیں آتی ہیں پوری طرح بتائی بھی نہیں جاتیں۔یہ تو بار بار آنی چاہئیں اور اس کا انتظام ہونا چاہئے۔بعض قانون کی دقتیں ہوتی ہیں ہم چونکہ قانون کی پابندی کرنے والی جماعت ہیں وہ باتیں فی الحال ہم چھوڑ دیں گے۔آج نہیں تو کل قانون اجازت دے گا اپنے شہریوں کو ان چیزوں، جس طرح دنیا کے اکثر ملکوں نے اپنے شہریوں کو اجازت دی ہے۔کوئی اس سے بد نتیجہ نہیں پیدا ہوتا۔لیکن بہر حال اب یہ آئے ہوئے ہیں آپ ہمت کر کے دس ، پندرہ ، ہیں ،سو ، دوسو ان کے ساتھ ، افریقہ، امریکہ دوسرے ملکوں کے لوگ ہیں، دوستیاں کریں قائم۔خط لکھا کریں۔مجھے تو ایک مسافر گاڑی میں مل گیا تھا جب میں پڑھا کرتا تھا جرمنی میں۔تو کہتا کہ خط لکھو۔میں نے کہا ہاں ہر پندرہ دن کے بعد ایک دوسرے کو خط لکھیں گے۔یعنی ہر ہفتے ایک ہفتہ وہ لکھے گا۔اگلے ہفتے میں جواب دوں گا یا اس سے اگلے ہفتے وہ لکھے گا پھر میں اس طرح اور اب تک وہ اتنا پیار کرنے والا دوست بن گیا صرف امتحان دینے کے لئے اور انگریزی سیکھنے کے لئے یہ خط و کتابت شروع ہوئی تھی کہ اثر قبول کرتا ہے تو اس کی بیوی فرید احمد کو پوچھنے لگی کہ میرے میاں سے حضرت صاحب نے ( میرا کہا کہ انہوں نے ) کوئی باتیں تو نہیں اس قسم کی کیں۔کیونکہ جب سے مل کے آیا ہے مجھے کہتا ہے کہ باہر نہ پھرا کرو، ننگے سر نہ پھرا کرو، یہ نہ کیا کرو، وہ نہ کیا کرو وہ اثر قبول کر کے تو اپنے گھر میں اس کو بعض باتوں کو رائج کرنے کی طرف مائل ہو گیا۔