خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 534
خطابات ناصر جلد دوم ۵۳۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا قیامت کیا انقلاب بپا کر دیا ان کی زندگی میں جیسا کہ ابھی ایک حوالے میں آپ نے دیکھا ہے اور اٹھارہ ہزار کی فوج سے آٹھ ، دس لڑائیاں کسری کی فوج نے ستر ہزاراسی ہزار ایک دفعہ یقیناً مجھے یاد ہے ایک لاکھ کی فوج ان کے مقابلے پر آئی۔نہیں ٹھہر سکی۔اس لئے کہ کسریٰ کی فوج کے ہاتھ میں دنیا کی بہترین تلوار تو تھی لیکن کسری کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں نہیں تھا۔مسلمان کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں تھا۔(نعرے) اس لئے میں کہتا ہوں کہ ماضی کو بھولیں نہ ، اس کو بھی پڑھیں اور مستقبل تو آپ کا ہے۔آپ نے چھلانگیں مارتے ہوئے ، ہنستے ہوئے اس میں داخل ہونا ہے۔اگر کوہ ہمالیہ جتنی آگ بھڑکتی رہی ہو تو آپ کے دل سے یہ آواز نکلے گی کہ :۔آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے“ ( نعرے) میں نے بتایا نا کہ اگلا سال خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے، فضلوں سے رحمتوں سے بھر پور ہے اس کو سمیٹا نہیں جا سکتا۔میں نے یہ نوٹ تیار کرنے شروع کئے۔اتنی تھری بن گئی۔پھر اور کم کئے۔پھر کم کئے۔اب میں کم سے بھی کم میں جا رہا ہوں اور میرا خیال نہیں کہ میں ان کو ختم کرسکوں۔صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کا بڑا حصہ اس وقت اپنے عمل کے لحاظ سے قربانی میں پاکستان بھی شامل ہے، باہر کے سارے ممالک شامل ہیں لیکن جو کام ہو رہے ہیں وہ ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے کے لئے باہر ہورہے ہیں اور آپ اس میں حصہ نہیں لے سکتے۔کیونکہ ہمارا ملک جو ہے وہ اقتصادی بحران میں سے گزر رہا ہے اور فارن ایکسچینج کی بڑی دقتیں ہیں۔باہر کی بھی بہت سارے ملکوں میں ہیں۔صرف ہمارے ملک میں نہیں۔صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کے وعدے تو خدا کے فضل سے بہت تھے۔اس میں آمد بھی بہت ہو چکی ہے اور جو نتیجہ نکلا ہے ( یعنی بڑی رقمیں ابھی پڑیں ہوئی ہیں) کہ:۔سویڈن میں ( گوٹن برگ) میں قریباً دو ایکٹر سے زیادہ زمین۔اس میں ایک نہایت خوبصورت مسجد بن گئی۔باقی علاقہ بھی جو ہے وہ آہستہ آہستہ ہمارے کام آئے گا اور مرکز قائم ہو