خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 533

خطابات ناصر جلد دوم ۵۳۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء کتابت میں ہے۔بڑی جلدی بیچے پڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف نے چھ نئی کتا بیں شائع کی ہیں ، وہ وہاں سے ان کا بھی پتہ کر لیں۔الشرکۃ الاسلامیہ نے شائع کی ہیں۔مجلس انصار اللہ کی کتب ہیں۔خدام الاحمدیہ کی کتب ہیں۔بچوں کے لئے یہ سلسلہ بڑا مفید ہے اور بچے بھی مختلف عمروں کے ہوتے ہیں نا۔مثلاً ایک اچھے پڑھے لکھے آدمی کو (احمدی نہیں تھے وہ ) کسی ان کے دوست نے دی بلال۔اب یہ چالیس صفحے کے قریب چھوٹا سا رسالہ ہے اور اس کو کہا یہ بچے کے لئے ہے تو پڑھ کے کہنے لگا یہ بچوں کے لئے ہے؟ اتنی تو میں نے اثر پیدا کرنے والی کوئی کتاب نہیں آج تک پڑھی۔یہ تو رلا دیتی ہے۔بات ٹھیک ہے آپ کے بچوں کو پتہ لگنا ہئے کہ ایمان اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کن قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ایک انگریز نے بھی کتاب لکھی ہے۔بلال پر۔وہ بڑی ہے کتاب بچوں والی نہیں تاریخی لحاظ سے واقعات لکھے ہیں۔میں نے یورپ میں بھی تحریک کی کہ اور جب تک نہیں ملتی وہ پڑھو۔اچھی لکھی ہوئی ہے۔اس میں چار پانچ غلطیاں ہیں۔تاریخی لحاظ سے میرے علم کے مطابق لیکن On The Whole اچھی ہے۔وہاں ہمارے ایک ڈین احمدی ہیں۔میں پچھلے سال گیا تو کہنے لگے میں نے وہ کتاب پڑھی میں رو پڑا۔میں نے کہا میں نے بھی پڑھی تو میں رو پڑا۔ہے ہی ایسی چیز۔اتنی قربانیاں دے کے آج تمہیں اس قابل کیا کہ اسلام کا نام اپنی گردنیں اٹھا کے اور سر اونچا کر کے دنیا کے سامنے لو۔اگر وہ لوگ وہ قربانی نہ دیتے تو وہی حال ہوتا جو ان قربانیوں کے عدم علم کے نتیجہ میں پچھلے سال جو نائب وزیر اعظم سیرالیون کے یہاں آئے ہوئے تھے انہوں نے ۱۹۷۰ء میں وہاں تقریر میں کہا کہ احمدیت کے آنے سے پہلے اگر کسی مجلس میں اسلام کی باتیں شروع ہو جاتیں تو ہم سر جھکانے پر مجبور ہو جاتے۔پھر احمدی آئے ، جن سے ہم نے اسلام سیکھا اور اب کسی مجلس میں اسلام کی بات ہو تو ہم فخر سے سر بلند کرتے اور ان سے اسلام کے متعلق بات کرتے ہیں۔تو جب تک آپ کو پہ نہ ہو کہ آپ کے آباؤ اجداد کس قسم کے انسان تھے جنہوں نے خدا کی راہ میں ساری دنیا کی طاقت کومرا ہوا کیڑا بھی نہیں سمجھا۔کسری اور قیصر جو طاقتیں تھیں، یہ ساری دنیا کی طاقتیں انہیں دو میں سمائی ہوئی تھیں اور انہوں نے سمجھا تھا کہ یہ بدو وحشی عرب کے، نہ ان کو لکھنا آئے۔نہ پڑھنا آئے ، (اسلام کے پہلے کی حالت ) یہ اب ہمارے مقابلے میں آرہے ہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں تھا