خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 486
خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء میں۔ایک نسبتی لحاظ سے اور ایک نسبتی لحاظ سے نہیں بلکہ حقیقتاً جو ساری دنیوی نسبتوں سے بالا ہو کر آپ کی فضیلت ہے وہ بھی بیان ہوئی ہے۔جو عنوان اس وقت میرے مضمون کے ہیں وہ یہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن عظیم کی تعلیم کی روشنی میں خاتم الکل ہیں۔یعنی تمام کائنات میں سب سے زیادہ افضل یعنی جو آپ کی نسبت، آپ کا مقام اور مرتبہ اس عالمین ، اس کائنات کے ساتھ ہے۔اس لحاظ سے آپ خاتم الکل ہیں۔انسان جس کی خاطر اور حقیقتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی مجھے یوں کہنا چاہئے انسان جس کی خدمت کے لئے ہر دوسری چیز پیدا کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کے لئے یہ کائنات بنائی گئی تو انسان کی نسبت سے آپ خاتم انسانیت ہیں۔اور پھر انسانوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو مومنین کی ایک جماعت پیدا ہوئی۔مومنین کی اس جماعت میں آپ کا مقام خاتم المومنین ہے۔یعنی مومنوں میں سب سے زیادہ فضلیت رکھنے والے مومن، اول المسلمین محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں۔ان مومنین میں عارفین ہیں جو مومنوں میں بڑا درجہ ہے۔اس لحاظ سے ، اس نسبت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم العارفین ہیں۔اور دنیا کی طرف جو رسول اور انبیاء آئے ان کی نسبت سے آپ خاتم النبیین ہیں۔اور خاتم النبین جو آپ ہیں انبیاء کی نسبت سے یعنی باقی تمام انبیاء سے افضل، اس کی بہت سی جہتیں ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔(الف)۔آپ خاتم النبین ہیں تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لئے کہ آپ کی رسالت اور نبوت ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رہنے والی ہے۔آپ ایک ابد تک قیامت تک زندہ رہنے والے نبی ہیں اور سلسلہ نبوت میں آپ کے علاوہ کوئی ایسا نبی نہیں۔(ب)۔جو الکتاب آپ لے کر آئے۔جو شریعت کا ملہ آپ نے مبعوث ہونے کے بعد نوع انسانی کے ہاتھ میں دی۔اس کے لحاظ سے آپ خاتم النبیین ہیں یعنی کوئی اور ایسا رسول نہیں ، شریعت لانے والا رسول جسے الکتاب، یعنی کامل شریعت ملی ہو۔جس کے متعلق یہ کہا گیا ہو۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المادة : (۴) تفصیل میں میں آگے جاؤں گا۔اس وقت :