خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 459
خطابات ناصر جلد دوم ۴۵۹ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء پندرھویں صدی ہجری کا یہ پہلا جلسہ ہے اور پندرھویں صدی ہجری کے پہلے جلسے کا۔پہلا دن ہے اور پندرھویں صدی ہجری کے پہلے دن کی یہ پہلی تقریر، افتتاحی تقریر ہے۔جب ہم ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو پچھلی صدی ، چودھویں صدی ایک ایسی صدی ہے جس کے ساتھ ہمارا اور ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارے پیارے مذہب اسلام کا بڑا گہرا تعلق ہے۔جو صدی گزرگئی اس میں ہم نے ابتلا بھی دیکھے۔ہم نے اس میں آگیں بھی بھڑکتی پائیں ہم امتحانوں میں سے بھی گزرے۔ہم نے ان تمام ابتلاؤں اور امتحانوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کو آسمانوں سے بارش کے قطروں سے بھی زیادہ برستے بھی پایا۔ہم نے خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے حقیر کوششیں بھی کیں۔ہم نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ ہماری حقیر کوششوں کے ایسے نتائج نکلے کہ جن کی کوئی نسبت ہی نہیں تھی ہماری کوششوں کے ساتھ۔جہاں ہم نے پیسہ دیا وہاں ایک کروڑ روپیہ نتیجہ نکل آیا محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ۔مگر مجموعی طور پر اگر نظر ڈالی جائے جانے والی صدی پر تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم روحانی قوت، قوت قدسیہ کے نتیجہ میں جو انقلاب بپا ہوا اور جس نے اس زمانہ میں اپنے عروج کو پہنچنا تھا اس کی بنیاد پڑی۔آنے والی صدی میں ان بنیادوں پر وہ عمارتیں تعمیر کی جانے والی ہیں کہ جن میں نوع انسانی بسیرا کرے گی اور اس کے لئے ہمیں ہی کچھ کرنا ہے۔ہم پر بہت سی ذمہ واریاں عائد ہوتی ہیں۔ہم نے اپنوں کے بھی اور غیروں کے بھی دل جیتنے ہیں۔غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔اسلام کے حسن اور نو رکوان کونوں تک پہنچانا ہے جہاں شیطانی ظلمات کی حکومت قائم ہے۔ہم نے بھولے بھٹکوں کو صراط مستقیم دکھانی ہے۔ہم نے ان لوگوں کو جو بداخلاقیوں کو تہذیب سمجھ رہے ہیں، با اخلاق اور مہذب بنانا ہے۔ہم نے ان کو جو انسان کے شرف اور اس کی عزت کو پہچانتے نہیں، یہ یقین دلانا ہے کہ انسانی زندگی میں اطمینان صرف اس وقت پیدا کیا جاسکتا ہے جب انسان، انسان کی عزت اور احترام کرنے لگے۔ہم نے ان کو جو انسانوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں، اسلام کی یہ تعلیم دینی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر فرد واحد کے حقوق قائم کئے اور جب تک ان حقوق کی ادا ئیگی کا صحیح اور پورا سچا انتظام نہ ہو، نوع انسانی اطمینان قلب حاصل نہیں کر سکتی۔ہم نے اس جگہ