خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 458
خطابات ناصر جلد دوم ۴۵۸ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء بھیجا۔تو نے اس نور سے ہمیں بھی حصہ دیا اپنی رحمت اور فضل سے۔اے خدا اس نور کو ہمارے لئے مکمل کر۔تو ہر چیز پر قادر ہے۔رَبَّنَا أُتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة : ۲۰۲) اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا کی زندگی میں بھی کامیابی دے اور حسنات سے نواز اور آخرت میں بھی کامیابی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ربنا اے ہمارے رب! ہم تمام دوسرے ارباب سے تو بہ کرتے ہوئے تیری طرف لوٹتے ہیں۔انسان نے بہت سے ارباب بنالئے۔اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے بھروسہ ہو گیا۔اپنے علم یا قوت بازو کا انہیں گھمنڈ، اپنے حسن یا مال و دولت پر انہیں فخر ، اسی طرح کے ہزاروں اسباب ہیں جو ان کی زندگیوں کے ساتھ بطور ار باب کے لگے ہوئے ہیں۔اے خدا ! ہم نے ان سب ارباب کو ترک کیا۔ان سے بیزار ہوئے۔اے واحد لاشریک کچے اور حقیقی رب ! ہم تیرے حضور سر نیاز کو جھکاتے ہیں۔اے خدا ! ہماری دعاؤں کو سن اور ہماری مرادوں کو پورا کر اور اپنے وعدوں کو جو اس زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں ہماری زندگی میں ہمیں دکھا۔اے خدا ! لوگ جھوٹ ہی کو اپنا رب بنا بیٹھے ہیں۔کہتے ہیں جھوٹ کے بدوں گزارا مشکل ہے۔بعض ہیں جو چوری اور رہزنی اور فریب دہی کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے حصول رزق کی کوئی راہ نہیں۔بعض ایسے ہیں جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہے۔ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت۔لیکن اے خدا! ہمیں تو تجھ سے دعا کرنے کی اور مدد مانگنے کی حاجت ہے۔ہماری حاجت روائی کر۔ہماری دعاؤں کوسن اور انہیں قبول کر اور ہم پر رحم کر۔ہم ناچیز انسان ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں، ہم میں کوئی خوبی نہیں۔ہمارے عمل بھی ان بلندیوں تک نہیں پہنچے جن بلندیوں تک تو انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔مگر اے خدا! تو تو دیالو ہے۔یخشن ہار ہے۔تو دینے والا ہے، تو عطا کرنے والا ہے۔تو نے ہماری زندگیوں سے بھی پہلے ، ہمارے وجود سے بھی پہلے بے شمار ، ان گنت نعماء ہمارے لئے پیدا کر دیں۔اب جب تو نے ہمیں پیدا کیا تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے حضور کچھ پیش کر سکیں اور ایسا کر کہ جو بھی ہم عاجزانہ رنگ میں ٹوٹی پھوٹی چیزیں تیرے حضور پیش کریں تو انہیں قبول کرلے اور اپنی رضا کی جنتیں ہمارے لئے مقدر کر دے۔