خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 451

خطابات ناصر جلد دوم ۴۵۱ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء گائے کا گوشت ، بکرے کا گوشت بھیٹر کا گوشت اور مرغی کا گوشت اور پرندوں کا گوشت پھر آگے آبی پرندے اور خشکی کے رہنے والے ہیں پرندے کا گوشت۔پھر مچھلی کا گوشت ان سب میں پروٹین پائی جاتی ہے اور اب اطباء نے ایلو پیتھی میں تجربہ کر کے یہ کہا ہے کہ ہر ایک کو اس کا حصہ دو اگر تم نے اپنی صحت ٹھیک رکھنی ہے۔اور نٹس (Nuts) جو خشک میوہ ہے جو آج کل اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ بہت سارے ترستے ہی ہوں گے کہ کھا ئیں یا نہ کھا ئیں یہ بڑی اچھی ہے صحت کے لئے چیز، بادام، پستہ ، اخروٹ ،مونگ پھلی یہاں ہماری ہے ہاں نٹس جو ہیں کم ہیں امریکہ میں تو ۵ قسم کے نٹس پائے جاتے ہیں یہ بڑے اچھے ہیں تھوڑا سا مکھن کھاؤ ہر چیز تھوڑی تھوڑی کھاؤ تا کہ کسی چیز میں اسراف نہ ؟ جائے ایک تو ہے کھانے کا اسراف ایک اس کے جو Components ہیں حصے ہیں ان میں اسراف نہیں کرنا تھوڑا تھوڑا کھاؤ ہر ایک کا صحت بڑی اچھی رہے گی جنہوں نے اس کو معلوم کیا اور جن کے خیال میں آیا توجہ کرتے ہیں وہ اسی طرح کرتے ہیں چار پانچ بادام کھالئے ، آدھا انڈا کھالیا ایک ربع مچھلی کا کھا لیا تھوڑا سا، یعنی یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی وقت میں چوزا اور بکری کا گوشت کھالیا ایک وقت وہ کھالیا ایک نوالہ ادھر سے کھا لیا بہر حال آگے پیچھے کر کے اور صحت قائم رہتی ہے۔اگر تم نہ کرو گے گوشت بالکل نہیں کھاؤ گے جرات نہیں ہوگی بزدل بن جاؤ گے تجربہ ہے گوشت نہ کھانے والے عام طور پر بزدل ہوتے ہیں الا ما شاء اللہ۔اگر صرف گوشت کھاؤ گے تر کاریاں نہیں کھاؤ گے دوسری چیزیں نہیں کھاؤ گے تو خونخوار وحشی بن جاؤ گے اعصاب پر اثر پڑتا ہے کھانے کا یہ اور ہے اعتدال دنیا کی مخلوقات میں۔یہ بڑی حکمتوں والی کتاب ہے حکمتیں اس لئے بتا رہا ہوں احکام میں اعتدال رکھا مثلاً معاف کر وحکم ہے معاف کرو ساتھ ہی قرآن نے کہا ہر وقت معاف نہیں کرنا۔انتقام اور عفو کے درمیان ایک اعتدال قائم کیا ہے کہ اگر عفو سے فائدہ ہو عفو سے کام لو۔اگر انتقام سے اگلے آدمی کی اصلاح ہوتی ہے انتقام سے کام لو۔حکمت یہ جو میں نے مثال دی تھی وہ اخلاق فاضلہ میں اور قوتوں اور صلاحیتوں میں توازن پیدا کر کے اور عجیب اصول دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ جو بداخلاقی ہے وہ کوئی ایسا کام نہیں جو اپنی ذات فی نفسہ بداخلاقی کا کام ہو بلکہ بے موقع اور بے محل اس کا کرنا جو انسان کو خدا نے قوت دی ہے وہ بغیر وجہ کے تو نہیں لیکن بے موقع بے محل بے وقت کسی کا کوئی کام کرنا یہ بد اخلاقی ہے۔