خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 424 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 424

خطابات ناصر جلد دوم ۴۲۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء نے بتایا اور آپ نے دیکھا دنیا کے کونے کونے میں جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش، موسلا دھار بارش سے بھی زیادہ ہو رہی ہے۔ہمارے منہ میں وہ زبان نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکیں جو اُس کا حق ہے اور ہمارے جو بولنے کے الفاظ ہیں جس کو زبان کہتے ہیں (ہماری زبانیں مختلف، اُردو زبان، انگریزی زبان ، اُس معنی میں زبان جو ہے ) اُس میں وہ الفاظ نہیں جو خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال و وحدانیت، اُس کی قدرت ، اُس کی محبت ، اُس کی رحمانیت ، اُس کی رحیمیت جو ہے اس کے جلوؤں کو اپنے احاطہ میں لا سکیں۔خدا کی باتیں خدا ہی سمجھ سکتا ہے اور بد بخت ہے وہ انسان جو خدا سے اُس کے پیار کو پاتا اور خدا کے ساتھ بیوفائی کرتا۔اس واسطے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر میں ایک فقرہ میں نصیحت کرنا چاہوں اور ہمیشہ وہ کرتا چلا جاؤں تو وہ فقرہ یہ ہوگا۔یاد رکھو! اتنے پیار کرنے والے رب کریم سے کبھی بے وفائی نہ کرنا کوئی ہمیں تکلیف نہیں پہنچائی اس نے کبھی اگر کہیں اور سے تکلیف پہنچی تو جتنی تکلیف پہنچی اس سے ہزار گنا ،لاکھ گنا، کروڑ گنا، بے شمار گنا زیادہ ہمارے سکون کے، اطمینان کے ، آرام کے سامان پیدا کر دئیے۔ایک شخص کو اُس کی غلطی تھی یا نہیں بہر حال وہ سمجھا مجھے بلا وجہ نکالا گیا نوکری سے۔بڑا گھبرایا ہوا آیا۔میں نے کہا دیکھو! ہم تو ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں۔جتنے تمہیں اس وقت پیسے مل رہے ہیں ماہانہ اُس سے سات گنا زیادہ خدا تمہیں دے گا۔میرے منہ سے نکل گیا۔میری عزت خدا نے رکھ لی۔میں تو خدا کے سامنے سر نہیں اُٹھا سکتا۔اتنا پیار کرتا ہے۔ابھی مہینہ، ڈیڑھ مہینہ ہوا اُس کا خط آیا میں تو بھول گیا۔مجھ سے تو ملتے ہیں ہزاروں آدمی۔اُن سے میں باتیں کرتا ہوں۔پھر وہی مجھے یاد کراتے ہیں۔اُس نے خط میں لکھا کہ جب میں پریشانی کی حالت میں آپ سے ملا تو آپ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ دیکھو! رزاق خدا ہے۔انسان نہیں۔جس تنخواہ کو تم چھوڑ رہے ہو اس سے سات گنا زیادہ خدا تمہیں تنخواہ دے سکتا ہے یا دے گا۔کوئی اس قسم کا فقرہ بولا اور آج میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میں بالکل سات گنا زیادہ تنخواہ آج لے رہا ہوں اور آپ کی بات خدا نے پوری کر دی۔یہ خدا ہے جس کے دامن کو ہم نے پکڑا۔جس سے ہمارا واسطہ ہے۔اسے چھوڑ کے تو ہم نے کہیں نہیں جانا اور یہ درایسا ہے یہاں دھونی رما کے بیٹھے رہو کسی سے دشمنی نہ کروکسی کی بدخواہی نہ