خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 417
خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء وہاں ایک اور خوشی کی بات ہوئی ہے میں نے کئی دفعہ اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ جہاں ممکن ہو وہاں ہم بڑی عید اُس روز کریں جس دن مکہ مکرمہ میں عید الاضحی کی جاتی ہے۔تو وہاں عبدالوہاب بن آدم آئے ہوئے ہیں جلسہ میں شریک ہونے کے لئے۔انہوں نے بھی میری بات سُنی ہوئی تھی۔اس دفعہ انہوں نے پوری تحقیق کر کے ایسا انتظام کر دیا کہ عید الا ضحیہ غانا کے ملک میں جماعت احمدیہ نے اُس روز کی جس دن خانہ کعبہ میں سعودی عرب میں عید ہورہی تھی اور اس کا بڑا چرچا ہوا اخباروں میں۔کیونکہ ایک نئی چیز تھی نا۔ایک نئی حرکت پرانی برکت کی طرف منہ کر کے شروع ہو گئی۔خانہ کعبہ اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ (ال عمران: ۹۷) ہے۔اس سے جماعت احمدیہ کا بھی ساتھ ہی چرچا ہوا اور بڑی خوشی کی اور برکت کی لہر دوڑی۔سیرالیون : ایک نئی مسجد وہاں تعمیر ہو گئی۔لوگ خدا تعالیٰ کی برکتوں کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔صرف احمدی نہیں بلکہ دوسرے بھی اُس ملک والے ہی نہیں باہر سے آنے والے بھی۔کوریا کے سفیر فری ٹاؤن میں ہیں۔وہ احمد یہ مسلم سیکنڈری سکول کی ایک تقریب میں شامل ہوئے۔انہیں قرآن کریم کا تحفہ دیا گیا۔بہت خوش ہوئے۔کہنے لگے کو ریا میں تو ہمیں۔ان کا یہ فقرہ بہت مزیدار ہے۔وہ سفیر جو کوریا کے تھے اُن کو قرآن کریم کا جب تحفہ دیا گیا تو اُن کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ ہمیں کوریا میں تو صرف بائیبل ہی ملتی ہے ، مگراب قرآن کریم پا کر بہت خوشی ہوئی۔نائیجیریا: الا رو کے مقام پر احمد یہ مشنری ٹرینینگ کالج کا اجراء کیا گیا۔اب وہاں ضرورت بہت بڑھ گئی ہے اور یہاں سے اتنے آدمی ہم جامعہ احمدیہ کے بھیجو انہیں سکتے۔اس میں بہت ساری روکیں ہیں۔کچھ ہماری ہیں۔ہمارے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں جو خرچ کریں۔اس واسطے ایک غانا میں ٹریننگ کالج ہے اور وہاں مختلف ملکوں کے احمدی آ جاتے تھے۔پھر اب ان کے آپس میں بھی فارن ایکسچینج کی مشکلیں ہیں۔تو اب دوسراٹر یننگ کا لج نائیجیریا میں کھل گیا ہے۔ایک نئے سیکنڈری سکول کا اجراء ہوا ہے۔ایک نئے ہسپتال کھولنے کی اجازت مل گئی ہے