خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 410

خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء میرے سامنے ذرا سا بھی کوئی اشارہ کرے تو میں اس کو مشورہ دیتا ہوں ہم یہاں جبرا نہیں بٹھا رہے جاؤ کہیں اور اپنی روزی تلاش کرو یہ ہم مانتے ہیں کہ اس مہنگائی میں تم پہ بڑی تختی ہو رہی ہے پھر بھی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید اور وقف جدید نے ( اور چھوٹی چھوٹی رقمیں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ کی طرف سے بھی دی جاتی ہیں) گزشتہ سال امداد کے طور پر بڑی رقم اپنے کارکنوں میں تقسیم کی ہے۔(لیکن باہر والے بھی ایسے ہیں جو مستحق ہیں، اُن کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نہ کیا جاتا ہے ) پندرہ لاکھ اکاون ہزار روپیہ اُن کے جو گزارے ہیں اُن کے علاوہ پندرہ لاکھ اکاون ہزار روپیہ تقسیم ہوا ہے۔اس کے باوجود میں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پھر بھی اُن کی ساری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں لیکن جو جماعت کے پاس نہیں وہ دیا نہیں جاسکتا اور ایک جگہ پہ آ کے جو ترجیحات ہیں اُن کے مد نظر اگر یہ سوال ہو کہ آپ نے مبلغ غیر ممالک میں بھیجنے ہیں یا اپنے کارکنوں کے پیٹ بھرنے ہیں تو ہم کہیں گے جو خوشی کے ساتھ بھوکے رہ کے مبلغوں کو باہر بھیجنے کے لئے تیار ہیں، وہ رہیں لیکن مبلغوں کو بہر حال باہر جانا چاہئے کیونکہ اصل مقصد جماعت احمدیہ کی زندگی کا یہی ہے کہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا جائے۔۱۹۷۳ء کے جلسے میں میں نے صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کا اعلان کیا تھا اور یہ جو ہے اگلی صدی ہماری زندگی کی جماعتی زندگی کی۔جو ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء سے شروع ہوتی ہے لیکن ۲۳ / مارچ سے یہ پروگرام شروع ہونا ہے اور جلسہ سالانہ پہ آکے اپنے عروج کو پہنچنا ہے۔شروع میں جو منصوبے بنائے گئے تھے اس میں اب حالات کے بدلنے سے کچھ تبدیلیاں بھی کرنی پڑیں گی۔وہ میں خطبے میں بیان کروں گا اس وقت اُس کا وقت نہیں ہے۔یہ جو بتانے والی بات ہے کچھ تو میں نے پہلے بتادی کہ کثرت سے انگریزی ترجمہ قرآن کی اشاعت کا سامان ہو گیا ہے۔جو امریکہ میں ترجمہ چھپا ہے (میری آواز پہنچ رہی ہے آپ کو ؟ ) جو امریکہ میں میں ہزار میں نے بتایا ابھی چھپا ہے اُس سے ہمیں ہزار ترجمہ کے ملنے سے ہمیں خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات سے کہ ایک بہت بڑا مطبع خانہ ہے جس کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہو گیا اور وہ اس طرح کہ پہلے تو شروع میں انہوں نے تیاری شروع کی۔پھر یہاں خط آتا تھا کاغذ کون سا لگانا ہے۔جلد کیسی ہو گی۔آنے جانے میں بڑا وقت لگتا ہے۔وہ سارا میں نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا تھا