خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 30

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء فتویٰ کفر لگایا۔خالی کفر کا فتوی ہی نہیں لگایا بلکہ انہیں اتنی اذیتیں دی گئیں اور اس قدردُ کھ پہنچائے گئے کہ آج جب ہم وہ حالات پڑھتے ہیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور عقل حیران رہ جاتی ہے کہ آخر یہ دُکھ انہیں کیوں دیئے گئے؟ صرف اس لئے کہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ ان سے پیار کرتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے پیار کرتے ہیں لوگ اُن کو دُکھ دیتے تھے لیکن وہ یہی کہتے تھے کہ دُنیا کا کوئی دُکھ ہمارے اس تعلق کو قطع نہیں کر سکتا اور دُنیا میں کوئی ایسی چھری نہیں ہے جو اس رشتہ محبت کو کاٹ دے جو ہمارے اور خدا کے درمیان ہے۔اس لئے لوگ خدا کے بندوں پر فتوے لگاتے چلے گئے مگر خدا تعالیٰ نے کہا دیکھو! میرے یہ بندے اپنے دعوے میں بچے اور صادق ہیں۔لوگ انہیں جتنی مرضی تکلیف دے لیں۔میرے ساتھ ان کا جو تعلق محبت ہے اور ان کے دل میں میرے لئے جو عشق پایا جاتا ہے، وہ کسی طرح کم نہیں ہوگا۔پس یہ کتاب بڑی دلچسپ ہے اس میں ہر صدی کے چند بزرگوں کی مثالیں دی گئیں ہیں کہ کس طرح اُن کو کا فر گری کے ابتلاء میں سے گزرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں سے قرآنی آیات کی تفسیر اکٹھی کر کے مرتب کی جارہی ہے۔اس سال اس سلسلہ کی چوتھی جلد شائع ہوئی ہے جو سورہ مائدہ سے سورہ تو بہ تک کی آیات کی تفسیر اور اقتباسات پر مشتمل ہے۔یہ بھی ایک بڑی ہی دلچسپ چیز ہے۔اور پڑھنے اور روحانی طور پر مستفید ہونے کے لائق ہے۔تاریخ احمدیت کی پندرھویں جلد بھی چھپ لیا ہے علاوہ ازیں جتنی بھی مفید کتب اس سال چھپی ہیں اُن کے متعلق میں دوستوں سے یہ کہوں گا کہ خدا تعالیٰ نے جن دوستوں کو توفیق دی ہے وہ انہیں ضرور خریدیں اور پڑھیں۔یہ بھی تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ آپ احباب جماعت کو یہ پتہ لگے کہ ہم ان کتب کو پڑھیں اور ہمارے ذہن انہیں قبول کریں۔مذہب اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور اس کا دعوی بھی بڑا عظیم ہے اور جس شکل میں اس نے اپنے دعوی کو سچا ثابت کیا ہے وہ اسے اور بھی عظیم اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔اب دیکھو صحرائے عرب سے ایک شخص اٹھا اور اس نے یہ دعوی کیا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوا ہے اور اس نے مجھے ایک کامل اور مکمل شریعت دی ہے اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قرآن عظیم میں قیامت تک انسان کے