خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 29
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء یہی ہے کہ نوع انسانی کے ذہنوں کو تیار کیا جائے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو شریعت آئی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام دیا ہے کہ انسان کے یہ حقوق ہیں۔اور اسلام سے باہر چونکہ یہ حقوق کسی کو نہیں مل سکتے اس لئے وہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے گرد جمع ہو جائیں۔اور اپنی جبینوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا دیں اور جب لوگوں کو اُن کے حقوق مل جائیں گے تو وہ عملاً ایک قوم بن جائیں گے۔پس یہ بھی ایک مقابلہ ہے اس مقابلہ کے لئے ہم کتابیں شائع کرتے ہیں۔اخبارات شائع ووه کرتے ہیں۔ہفتہ وار رسالے شائع کرتے ہیں ماہانہ رسائل نکالتے ہیں جیسے ”الفرقان“۔تحریک جدید “ ہے انصار اللہ ہے ”خالد ہے ”مصباح “ ہے ان کے علاوہ روز نامہ الفضل اور ہفت روزہ لا ہور ہے۔دوران سال سلسلہ کی بعض کتب بھی شائع ہوتی ہیں۔احباب کو وہ بھی پڑھنی چاہئیں۔ان کتابوں میں سے جو دوران سال شائع ہوئی ہیں ایک کتاب ” مقربان الٹی کی سرخروئی۔روح کا فرگری کے ابتلاء میں۔مولوی دوست محمد صاحب نے مرتب کی ہے ویسے اس کتاب کی آؤٹ لائنز (Out lines) میں نے ہی اُن کو دی تھیں بات اصل میں یہ ہے کہ ہزاروں ، لاکھوں اولیاء اللہ امت محمدیہ میں گزرے ہیں اُن کو دنیا نے بڑا دکھ دیا اور بہت تنگ کیا۔بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ تم کہتے ہو خدا اپنے بندوں سے پیار بھی کرتا ہے اور اُن کو زمانے کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دیتا ہے اور دنیا اُن کو تنگ کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس مسئلہ پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ اس کتاب کے دیباچہ میں تمہیداً آپ کی کتابوں کے بعض اقتباسات کے بعد بتایا گیا ہے کہ کس طرح آغاز اسلام سے فتوے لگنے شروع ہو گئے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا۔حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ باقی تینوں ائمہ کرام حضرت امام احمد بن جنبل حضرت امام شافعی حضرت امام مالک پر بھی کفر کے فتوے لگے۔صحیح بخاری جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھا جاتا ہے یعنی قرآن کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح اور مستند کتاب سمجھی جاتی ہے اس کے مؤلف حضرت امام بخاری پر بھی علماء نے