خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 356

خطابات ناصر جلد دوم ۳۵۶ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء پھر جماعت جو ہے وہ صرف پارٹیشن تو بعد میں ہوا اور ہندوستان کا بٹوارہ ہونے کے بعد پاکستان بعد میں بنا پہلے تو ایک متحد ہندوستان تھا جس میں سارے بستے تھے اور جماعت زیادہ تر اس وقت کے ہندوستان ہی میں تھی باہر کے ممالک میں اکا دکا تھے لوگ۔وہ آتے تھے ان کو کچھ علم ہوتا تھا۔زیادہ ان کو علم نہیں تھا۔اب لاکھوں کی تعداد میں ایک ایک ملک میں احمدی باہر بھی پایا جاتا ہے۔خود پاکستان میں ہمارے اندازہ کے مطابق census لینا تو گورنمنٹ کا کام ہے صحیح تو اس سے پتہ لگتا ہے۔اگر census صحیح ہو ہمارے اندازہ کے مطابق قریباً کم و بیش چالیس لاکھ احمدی اللہ کے فضل سے پاکستان میں ہیں۔ان میں چھوٹے شیر خوار بچے بھی ہیں ان میں بوڑھے بھی ہیں۔ان میں وہ بھی ہیں جن کو ان مسائل کا علم ہے۔صحابہ میں سے بھی بہت سے زندہ ہیں ان سے سننے والے بھی ہیں لیکن جو میرے مخاطب ہیں اطفال اور نو جوان، خدام الاحمدیہ کی عمر کے یا بچے جن کو میں کہوں گا یا نو جوان ہیں جنہیں کہوں گا وہ دو قسم کے ہیں اور ایک تو وہ ہے جو احمدی گھر میں بچہ پیدا ہوا پھر وہ اپنی عمر سے گزرتا ہوا ایک طفل جو ہمارا نظام ہے اطفال کا اس کی عمر کو پہنچا۔پھر اس سے نکلا۔پھر وہ خدام الاحمدیہ کی عمر کو پہنچا۔پھر اس سے نکلا۔پھر وہ انصار اللہ کی عمرکو پہنچا۔انصار میں سے بھی ہیں بہت سے جن کو ان باتوں کا علم نہیں۔ایک دوسرے بچے بھی ہیں میرے، اور نوجوان اور وہ وہ ہیں جو بیعت کر کے بعد میں جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کی عمر پانچ سال، سات سال، آٹھ سال، دس سال کی ہے اور بعض کی عمر پندرہ بیس سال کی ہے اور شاذ و نادر ہی ہیں جو اس گروہ میں آئیں گے جو بڑی عمر کے ہیں مثلاً جب افریقہ میں ہمارے مبلغ گئے تو ۱۹۴۴ ء تک بہت تھوڑے احمدی ان ممالک میں تھے۔سینکڑوں ہوں گے۔میرے خیال میں ہزاروں کی تعداد اس وقت شاید ہی کسی ملک میں بنی ہولیکن اب غانا جو چھوٹا سا ملک ہے وہ اندازہ کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں دس لاکھ احمدی ہو چکا۔یہ دس لاکھ احمدی اللہ کے فضل سے ہوا لیکن ان دس لاکھ احمدیوں کے کانوں میں اس قسم کی صداقتیں اس رنگ میں جو ہمارے کانوں میں پڑی تھیں نہیں پڑیں۔تو ایک تو وہ طفل ہے جو احمدی کے گھر میں پیدا ہوا اور طفل کی عمر کو پہنچا اور ایک وہ طفل ہے جو جماعت احمدیہ میں داخل ہوا اور پھر ایک وقت گزرنے کے بعد کچھ اس کو واقفیت ہوئی۔زیادہ