خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 355
خطابات ناصر جلد دوم ۳۵۵ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء آئندہ انشاء اللہ جب اسلام غالب آئے تو تاریک بر اعظم کو نورانی بر اعظم ہی کا نام دیا جائے گا اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں اپنے پیارے بچوں ، اطفال اور نوجوانوں سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے کہ جب میں اے بچو! آپ کی عمر کا تھا ہم قادیان ہی تھے۔جب میری عمر آٹھ سال کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کو قریباً نو سال ہو چکے تھے اور مہدی علیہ السلام کا جو ذکر پہلی کتب میں آیا ہے اور وہ اخبار جو قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں، ان کا کثرت سے ذکر ہوتا تھا اور وہ علم کا ایک سمندر جس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مہدی علیہ السلام سے تعلق رکھنے والا ہے، وہ باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی تھیں اور بار بار پڑتی تھیں اور کوئی شک اور شبہ ہمارے دلوں میں اُس وقت اس مسئلہ کے متعلق باقی نہیں رہا جو بچہ تھا اس کے کان میں یہ بات پڑتی تھی۔جماعت چھوٹی تھی باہر سے دوست آتے تھے قادیان میں۔ان کے کانوں میں پڑتی میں۔وہ واپس جاتے تھے۔وہ اپنے اپنے گاؤں میں یا شہر میں وہ ذکر کرتے تھے اور ساری جماعت کو ی علم تھا کہ قرآن کریم نے اس آخری زمانہ کے متعلق کیا کیا با تیں ہمیں بتائیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی تفسیر میں کیا ہے؟۔ہمارے پہلے بزرگوں نے ان سے کیا سمجھا اور کیا بیان کیا؟ لیکن اب ایک زمانہ گذر گیا اس بڑے ہی پیارے زمانہ کو جب ہم بچے تھے؟ اور قادیان میں تھے اور ہمارے گر د صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حصار تھا اور یہ باتیں کثرت سے ہوتی تھیں اور ہمارے دلوں کو اس یاد سے تازہ رکھتی تھیں اور اس حقیقت کو بیدار اور زندہ رکھتی تھیں ہماری زندگیوں میں لیکن اب اس کی نسبت جس زمانہ کی میں بات کر رہا ہوں جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سو گنا زیادہ ہوگئی قریباً۔کچھ کم ہو گی شاید لیکن سو گنا زیادہ ہوگئی اور