خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 25
خطابات ناصر جلد دوم ۲۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء گھر رکھوں گا۔آپ نے اکرام ضیف کے مطابق اس یہودی سے بہت اچھا سلوک کیا۔اس کی بڑی خاطر کی اور عزت سے اپنے ہاں ٹھہرایا۔اللہ تعالیٰ نے اس یہودی کو کوئی معجزہ دکھا نا تھا اس کے دل میں شاید کوئی نیکی ہو گی رات کو کسی وقت چار پائی پر اس کا اسہال نکل گیا۔وہ بہت شرمندہ ہوا۔اگر چہ اُس وقت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ان لوگوں کی نگاہ میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔تا ہم اُس نے سوچا کہ یہ اسلام کے نبی ہیں۔انہوں نے مجھے بطور مہمان رکھا ہے میری خاطر کی ہے اور ہر طرح سے میرا خیال رکھا ہے مگر مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ہے بے اختیاری میں ہوئی مگر ہو تو گئی نا! وہ بچارہ شرمندگی کے باعث رات کے اندھیرے میں باہر نکل کھڑا ہوا۔رات کی تاریکی میں ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ اسے یاد آیا پیسوں والا بٹوہ تو وہ وہیں بھول آیا ہے۔اب وہ چونکہ یہودی تھا پیسے تو نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ واپس آیا اتنی دیر میں صبح ہو چکی تھی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پہنچا تو اس نے دیکھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بستر صاف کر رہے ہیں جو لوگ آپ کے ارد گرد تھے ، وہ آپ پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھے۔بستر صاف کرنا تو ایک معمولی بات تھی۔مگر آپ نے صحابہ سے بستر صاف نہیں کروایا۔بلکہ صحابہ کے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ میرا مہمان تھا اس لئے میں خود صاف کروں گا۔یہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا کے سارے روحانی گند صاف کرنے کے لئے آئے تھے۔غرض اس یہودی نے جب اپنے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں یہ پیار دیکھا تو وہ حیران رہ گیا اُس نے سوچا یہ کتنا بڑا انسان ہے مگر اپنے ہاتھ سے گند صاف کر رہا ہے۔اس نے سمجھ لیا کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہوسکتا۔کوئی شخص جو دوسرے کو پیار دیتا ہے اور حقیقی معنوں میں اس کے دُکھوں کو دُور کرتا ہے، وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا جب اُس پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! میری بیعت لیں میں مسلمان ہوتا ہوں۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام جہاں نا کام ہوا، وہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور پیار کا پیغام انشاء اللہ کا میاب ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر اسی پیار کو لے کر ہم دنیا میں نکلے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کو خدائے واحد و یگانہ اور اس کے محبوب