خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 24 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 24

خطابات ناصر جلد دوم ۲۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء وہ دنیا جو بنی نوع انسان کی حقیقی ماں نہیں وہ بھی پوری کوشش کر رہی ہے اور اس کے لئے ہم بھی۔کوشش کر رہے ہیں۔جماعت احمد یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے دنیوی نقطہ نگاہ سے ہماری حیثیت ہی کیا ہے۔مجھ سے اگر کوئی بات کرتا ہے تو میں کہتا ہوں جو کچھ تم ہمارے خلاف کہو ، سب سچ ہے۔ہم تعداد میں کم ہیں جو لوگ ہمیں پہچانتے نہیں ، وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں یہ سچی باتیں ہیں اور ان سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔انسانوں کی طرف جدھر بھی ہماری نگاہ اُٹھتی ہے ہر طرف لوگوں کی آنکھوں میں ہمیں اپنے لئے نفرت اور غصہ اور وحشت کے آثار نظر آتے ہیں۔مگر جب ہماری آنکھ ہمارے رب کی طرف اُٹھتی ہے تو اس عظیم ہستی کی آنکھوں میں ہم اپنے لئے پیار کو ایک سمندر کی طرح موجزن پاتے ہیں گویا اس وقت دنیا میں پیار کے دوسمندر موجزن ہیں ایک خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جماعت احمدیہ کے لئے پیار ہے جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔دوسری طرف گودنیا کی آنکھوں میں ہمارے لئے نفرت اور غضب ہے۔بعض لوگ ہم سے نفرت کرتے اور ہمیں ہلاک کرنے کے درپے ہیں مگر اس کے برعکس ہماری آنکھوں میں وہ اپنے لئے پیار اور محبت کا ایک سمندر موجزن پاتے ہیں اور یہی پیار اور محبت کے دوٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر ہیں جو جماعت احمدیہ کو امتیازی خصوصیت کا حامل بنا دیتے ہیں یعنی خدا کی نگاہ میں جماعت احمدیہ کے لئے اور جماعت احمدیہ کی نگاہ میں نوع انسانی کے لئے محبت اور پیار کا تعلق خواہ نوع انسانی کے کچھ حصے جماعت احمدیہ سے نفرت ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔جب یہ دو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر آپس میں ملیں گے تو نوع انسانی ان سے باہر نہیں رہ سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمیں تو اس آدمی کے ایمان میں شک ہے جو اپنے دشمن کے لئے دعا نہیں کرتا اور اس کی خیر خواہی نہیں چاہتا۔کیونکہ دشمن کے لئے دعا کرنا تو سنت نبوی ہے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو ہمارے لئے اُسوہ حسنہ بنایا ہے آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ ہمارے لئے از دیا دایمان کا باعث ہے۔ایک دفعہ آپ کے ہاں ایک یہودی مہمان بن کر آ گیا۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اسے ہم اپنے ہاں بطور مہمان ٹھہرا لیتے ہیں آپ نے کہا نہیں یہ میرا مہمان ہے اسے میں ہی اپنے