خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 347
خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء آرام کے ساتھ بیٹھ جاؤ ہماری بھوک تو ایسی نہیں کہ جو جتنے تم نے عیسائی بنائے اتنے بنا کے بھی ہمارے پیٹ بھر جائیں ہمارے پیٹ کو تو خدا نے کہا کہ میں نے اتنا بڑا بنایا ہے کہ نوع انسان جب تک تمہارے اس روحانی پیٹ کے اندرسا نہیں جاتی اور یہ سارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع نہیں ہو جاتے اس وقت تک نہ ہمیں سیری ہو سکتی ہے نہ ہم آرام سے اور چین سے نیندیں لے سکتے ہیں۔تو یہ ہمارا کام ہے اس معنی میں کہ خدا نے یہ ہمارے سپرد کیا یہ خدا کا کام ہے اس معنی میں کہ اتنا عظیم کام کرنے کی اس نے طاقت ہمیں نہیں دی لیکن اس نے ہمیں ہم سے یہ وعہ کیا ہے کہ تم اپنی سی کوشش کرو اور میں اپنی شان کے مطابق برکتیں دوں گا اور تمہیں کامیاب کر دوں گا اور میرا منصوبہ کامیاب ہو جائے گا۔یہ جو ہے منصوبہ اس کا تعلق ہے صد سالہ جو بلی سے۔صد سالہ جو بلی جو شروع ہوئی تھی دوستوں نے میری اپیل سے چار گنا زیادہ اس میں رقم ، اس وقت کے حالات سے بہت زیادہ تھی۔میرا خیال ہے شاید اس سے بھی زیادہ ہو جائے اور وعدے بھی کم و بیش تھوڑا سا فرق ہوتا رہتا ہے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے وہ آ رہے ہیں۔پہلے ہمیں جو بلی کی برکت سے گوٹن برگ کی ایک نہایت خوبصورت مسجد دی خدا نے۔اور اس سال ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ کا نفرنس کرنے کی توفیق عطا کی۔یہ بھی سارا خرچ صد سالہ جو بلی کا ہے اور جو کتا بیں شائع ہوئیں ہیں وہ بھی صد سالہ جو بلی۔اور ایک حرکت دنیا میں اسلام کے حق میں اور چیز پیدا ہو گئی۔میں نے کہا تھا کہ یہ ایک چھلانگ نہیں ہے جو ہم نے چودہ سال کی چھلانگ مار کے اور غلبہ اسلام کی صدی میں داخل ہو جانا ہے۔ہم نے ایک ایک قدم ایثار اور قربانی کی راہوں میں اٹھانا اور پھر غلبہ اسلام کی صدی میں داخل ہونا ہے۔اور اب آخر میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ ہمارے چھوٹے چھوٹے قدم اور بہت ہیں صد سالہ جو بلی کے ان کو تو میں چھوڑ رہا ہوں تیسرا بڑا قدم یہ ہے کہ ہاں ایک بات پہلے بتادوں، کینیا کے جو چیف قاضی ہیں انہوں نے تھوڑا ہی عرصہ ہوا یہ فتویٰ دیا ہے ایک سنی مسلمان کے استفسار کے جواب میں کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے امام غزالی اور امام مالک کے اقوال بھی پیش کئے ہیں یہ فتویٰ سواحیلی رسالہ جس کے چیف ایڈیٹر سابق چیف قاضی ہیں ( تو دو چیف قاضی اکٹھے ہو گئے نا اس فتوے میں ) شیخ محمد قاسم مزروعی ہیں