خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 338
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء۔سے مل گیا ہو وہاں سے مل گیا ہو۔بس ایک ہی بات سوچا کرو کہ ہمیں وہاں سے ملتا ہے اور کہیں سے نہیں ملتا۔truth میں نے کچھ وہاں ، میری طبیعت پہ اثر تھا کچھ میرے صد سالہ سے پہلے میرا دماغ اپنے طور پہ سوچ رہا تھا تو میری طبیعت پہ اثر تھا کہ ہمارا کام نہیں چلے گا جب تک کہ چھوٹے موٹے پر لیس ہر ملک میں نہ ہوں لیکن بڑے پریس میں نے کہا تھا دو تین جگہ ہونے چاہیں میں نے غالباً ۱۹۷۳ء کی بات ہے بالکل چھوٹا پریس آفسٹ پر لیس جس کی قیمت وہاں کے لحاظ سے کم و بیش ، دو ٹائپ کے تھے ، تین تین ہزار پاؤنڈ کوئی ایسی قیمت نہیں ہے تو وہ میں نے بھجوا دیئے تین چار جگہ۔وہاں میں نے نائیجیریا میں بھجوا دیا میں نے غانا میں بھجوا دیا میں نے گیمبیا میں بھجوا دیا۔تین جگہ ہی گیا ہے مجھے پتہ تھا کہ جب ان کے پاس جائے گا تو ان کے پاس کوئی آدمی نہیں ہے جو ان کو استعمال کر سکے لیکن میرے دماغ نے مجھے یہ کہا کہ جب بھی تم بھجواؤ گے ان کے پاس کوئی آدمی نہیں ہو گا جو کام کر سکے اس واسطے بہتر ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے پر لیں اب بھجوا دو تا کہ اس کو خراب کر دیں تو ڑ دیں پھوڑ دیں ، کام تو سیکھ جائیں گے نا۔تو اب یہ ہوا ہے اب نائیجیریا کی رپورٹ میرے سامنے آئی ہے انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا پہلے چھوٹے چھوٹے پمفلٹ اپنے پروگرام وغیرہ شائع کرنے شروع کئے یہاں سے ہمارا ایک مبلغ اس کا دماغ مشین کے اوپر اچھا چلتا تھا اس نے کام سیکھ لیا اس نے وہاں کے مقامی جو تھے ہمارے احمدی نوجوان ان کو کام سکھانا شروع کر دیا اب وہاں اتنا بڑا انہوں نے ایک اور بڑا پر لیس پھر بعد میں منگوالیا با ہر سے اور اپنی کتابیں اپنے پریس میں شائع کر رہے ہیں اتنی میری طبیعت خوش ہوئی کہ خدا تعالیٰ اس طرح مدد کرتا ہے اگر ہر جگہ اپنی کتابیں جب تک نہ یہ شائع کرنا شروع کریں اس وقت تک یہ جو ہمارا پروگرام ہے کروڑوں میں قرآن کریم کے تراجم جو ہیں وہ شائع کر دینے ساری دنیا میں یہ کام تو نہیں ہو سکتا اب میں نے ان کو کہا تھا امریکہ کو کہ تمہارا پر لیس ہونا چاہئے۔وہاں ایک احمدی کے پاس چھوٹا سا پر لیں تھا لیکن وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو جماعت کے کاموں کے لئے لیا جاتا وہ تو تیار تھے کہ دے دیں میں نے نہیں لیا وہاں زمینیں تو اب مل گئی ہیں بہت سی تحفتاً کچھ ہاں تحفتا ملی ہیں اب تک۔ایک دو تین، تین زمینوں کے ٹکڑے مختلف جگہوں پر امریکہ میں بڑی قیمتی ، وہ جماعت میں سے ہی بعض نے جماعت کو دے دیں۔وہاں اب پریس بھی لگ سکتا ہے یہ چیزیں