خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 337
خطابات ناصر جلد دوم ۳۳۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء وہ۔تو عام وہ لیمپ رکھے ہوئے تھے انہوں نے کچھ گیس کے کچھ اور جو بڑا مشکل ہے سر جن کے لئے کرنا وہ اس سے آپریشن کر دیتے تھے اور خدا کے حضور جھک جاتے تھے کہ اے خدا تیرے نام کی سر بلندی کے لئے میں نے کر دیا ہے آپریشن تو میں تو اس کو شفا نہیں دے سکتا تو اسے شفا دے دے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے۔تو وہاں یعنی اتنا خدا کا فضل وہاں ہے خدا کی شان دیکھ کے تو آپ سمجھ ہی نہیں سکتے میرے جذبات کا کیا حال ہوتا ہے اب انہوں نے آہستہ آہستہ لگا دیا ہے کہ کوئی روپیہ باہر نہیں جا سکتا ہم تو ویسے بھی نہ نکالتے اب وہاں غانا کا نائیجیریا نہیں جاسکتا نائیجیریا میں تیل نکل آیا سب کچھ ہے لیکن نائیجیریا کا پیسہ غانا میں نہیں جا سکتا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر جماعت احمدیہ کی مساعی نے عیسائیوں میں اور بدمذہبوں میں اور بت پرستوں میں کامیاب ہونا ہے تو غانا میں اس تبلیغ کے لئے اور اسلام کی عزت کو قائم کرنے کے لئے وہیں جتنی رقم کی بھی ضرورت ہے وہاں سے ملنی چاہئے ہمیں۔باہر سے وہاں جانہیں سکتا اپنے ملکوں سے بھی وہاں نہیں جاسکتا تو ہر ملک کی ضرورت اپنی اپنی جگہ پوری ہو رہی ہے ایک ملک ہے وہاں پتہ نہیں کیا گناہ انہوں نے کیا ہے وہ تھوڑی سی تنگی محسوس کیا کرتے ہیں کبھی کبھی لیکن باقی تو ان کے ریزرو میں پڑے ہیں ہم بھی خوش وہ بھی خوش یعنی ایک ہفتے میں مجھ سے وہ عبدالوہاب بن آدم بعض دفعہ ایک ، ہفتے میں چھ ، چھ لاکھ کی منظور یاں لیتا ہے یہ ان کو کہا ہوا ہے کہ آخر میں نے دعا کرنی ہے میں نے پہلے بھی دعائیں کیں اگر تم برکت رکھنا چاہتے ہو اپنے پیسوں میں۔میں نے تو نہیں خرچ کرنا نہ اپنے پر نہ اپنوں پر نہ پاکستان کے احمدیوں پر تم پہ ہی خرچ ہو گا لیکن مجھ سے اجازت لئے بغیر نہ خرچ کرو پھر وہ آ جاتا ہے ایک کہ فلاں ہسپتال کے لئے یہ رقم اتنی رقم چاہئے فلاں سکول کے لئے اتنی چاہئے پانچ ، پانچ لاکھ دس دس لاکھ کی منظوری یعنی بلڈنگ تو وہ میں نے کہہ دیا ہے نا ایک کی منظوری چون لاکھ کی اس کے علاوہ سکول کی مرمتیں طالب علم زیادہ ہو گئے ہیں تین لاکھ ہمیں اور دے دیں فلاں سکول کے لئے فلاں سکول کے بجلی نہیں تھی اگر ہم اتنے پیسے خرچ کر دیں تو بجلی آ جائے گی اس کی منظوری دے دیں خدا دیئے جاتا ہے آسمان سے منظوری۔میں اس کا بڑا ہی عاجز اور ناکارہ بندہ میں یہاں سے منظوری دے دیتا ہے اور وہ کام اس طرح چل رہا ہے اور بڑی شان کے ساتھ چل رہا ہے۔دنیا اس واسطے حیران ہے کہتے ہیں شاید وہاں سے مل گیا ہو وہاں