خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 311

خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۱ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۸ء مغضوب ہوں اور دھتکارا ہوا ہوں اور تیرے پیار کو حاصل کرنے والا نہیں۔تیرے غضب کو حاصل کرنے والا ہوں تو اے خدا مجھے ہلاک کر دے تا کہ میری وجہ سے دنیا کسی ابتلا میں نہ پڑے لیکن اگر تو جانتا ہے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے اور میں تیرا پیارا ہوں اور مجھے اس مقصد کے لئے بھیجا ہے کہ میں دنیا میں اسلام کو غالب کروں تو تین سال کے اندر جو ا۳ / دسمبر ۱۹۰۲ء کو ختم ہوتے ہیں مجھ کو ایک ایسا نشان دکھا کہ جس کا انسانی ہاتھ کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔آپ نے فرمایا یہ درست ہے کہ انسانی ہاتھوں سے بھی تو اپنی قدرت کے نشان ظاہر کیا کرتا ہے۔درمیان میں ایک پردہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبانہ ماحول میں غیر تربیت یافتہ صحابہ کے ساتھ ایسے دشمنوں کا مقابلہ کیا جو بڑی زبردست فوجوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے تھے۔رؤسائے مکہ بڑے امیر تھے اور بڑے ماہرین جنگ بھی تھے۔سیوف ہندی جو اس زمانہ میں دنیا کی مشہور اور بہترین تلواریں سمجھی جاتی تھیں وہ دشمن کے ہاتھوں میں تھیں۔ادھر مسلمانوں کا یہ حال تھا ، ٹوٹی ہوئی تلوار میں لے کر ننگے پاؤں ان کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو یہ معجزہ دکھایا کہ وہ لوگ جو تعداد میں زیادہ تھے اور بڑے طاقتور اور دولتمند تھے ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔چند آدمیوں کے مقابلہ میں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دعا میں فرمایا ہے کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ تیری قدرت کے نشان انسانی ہاتھ سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پراے میرے رب ! میری دعا تجھ سے آج یہ ہے کہ میرے لئے ایسا نشان دکھا جس میں انسانی ہاتھ کا کوئی دخل نہ ہو۔وہ ایک ایسا نشان ہو جس میں کوئی شبہ بھی نہ کر سکے کہ کوئی انسانی ہاتھ ایسا کر سکتا ہے۔یہ تین سال جس میں انیسویں صدی کا آخری سال اور بیسویں صدی کے پہلے دوسال تھے۔اس تین سال کے عرصہ میں اس دعا کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے اور آپ کی صداقت کے لئے جو نشان دکھائے۔وہ تذکرہ کے صفحہ ۳۳۴ سے صفحه ۴۶۴ تک یعنی قریباً ایک سو تھیں صفحات پر مشتمل ہیں ” تذکرہ “ وہ کتاب ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات چھپے ہوئے ہیں۔ایک نشان مانگا تھا اپنے رب کے حضور عاجزانہ جھک کر ، لیکن پیار کرنے والے رب نے