خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 296
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۶ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہمدرد ہے، ہر ایک سے نیکی کی باتیں کرنے والی ہے، ہر ایک کو بہ اور تقویٰ کا حکم کرنے والی ہے، ہر ایک کو معروف باتیں بیان کرنے والی ہے، ہر ایک کو جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النَّحل : ١٢٦) کے مطابق۔۔۔جو بری باتیں ہیں ان کو پیار کے ساتھ سمجھانے والی ہیں اور یہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے ایک دفعہ یہ وہاں انگلستان میں کچھ بڑے پیدا ہو گئے تھے جو ویسے ہی بد اخلاقیاں تھیں ان کے اندر پیدا ہو گئے اور بڑے اخباروں میں آنے لگ گئے تھے۔تو ۱۹۷۰ء میں پریس کا نفرنس میں انہوں نے مجھے سے سوال کر دیا کہ ان کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا میرا خیال یہ ہے کہ وہ انسانوں کی طرح زندگی نہیں گزارر ہے۔خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں اور قو تیں انسان کو دی ہیں اس کے مطابق اس کی زندگی ہونی چاہئے۔پھر مجھے فورا خیال آیا کہ یہ نہ سمجھیں کہ میں غصے کا اظہار کر رہا ہوں میں نے کہا مجھے ان پر غصہ نہیں آتا ، مجھے ان پر رحم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیک زندگی، ایک پاک زندگی ایک بہتر زندگی ، ایک اطمینان والی زندگی کا سامان ان کے لئے پیدا کیا تھا اور اس زندگی کی طرف وہ متوجہ نہیں ہور ہے اور دوسری طرف بہک گئے یہ اس واسطے قابل رحم حالت ہے۔نہ میں حقارت کی نگاہ سے ان کو دیکھتا ہوں نہ مجھے ان پر غصہ کوئی آتا ہے اور یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس قسم کی کوئی چیز دیکھو احسن رنگ میں اس کو دور کرنے کی کوشش کرو اس کو اپنا بھائی سمجھو ایسی بات نہ کرو کہ اور ضد پیدا ہو جائے اور چڑ پیدا ہو جائے طبیعت میں ! اور اصلاح کی بجائے وہ اپنی بدی کے اوپر کہے کہ میں کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا اس نے کیوں مجھ سے بات کی۔تو بڑی تفصیل كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱) امت محمدیہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔امت محمدیہ کے کسی فرد کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ حقوق جو خدا تعالیٰ نے دوسروں کو دئیے ان کو توڑنے لگ جائیں اس اعلان کے بعد۔پھر قرآن کریم نے اس میں، مومن اور کافر کا کوئی فرق نہیں ہے صرف یہ کہا کہ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إلَى أَهْلِهَا ( النِّساء : ۵۹) جو یہ امانتیں ہیں یہ قرآن کریم کے اور اسلام کی اصطلاح میں خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعداد میں انسان کو عطا کی ہیں نیکی کی اور خدا تعالیٰ کی راہوں پر چلنے کی ان کو امانات بھی کہا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے عبد بننے کے سلسلے میں ایک اور جگہ غالباً جو حوالے میں نے پڑھے ہیں اس میں یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی امانتیں !