خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 283

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۳ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء نے اور دوسری ہر زندہ چیز کو انسان کا خادم بنایا۔اس جلوے میں بھی ہمیں یہ تو فیق نظر آتی ہے۔اور مخدوم جو ہے وہ انسان ہے۔وہ مومن نہیں وہ انسان ہے وہ محض با اخلاق انسان نہیں ، وہ انسان ہے وہ عالم انسان نہیں ، وہ محض انسان ہے وہ آج کا مہذب انسان صرف نہیں ہے بلکہ انسانیت کو علیحدہ کر کے ہر زندہ چیز کو کہا کہ تو انسان کی خدمت کر پہلے تو ہر زندہ مردہ کو کہا تھا کہ وہ ربوبیت العالمین کے جلوے سے یہاں ایک اور قسم کا جلوہ ہے سورہ فاتحہ میں یہ بتایا گیا ہے، اور پھر یہ کہا گیا ان کو کہ تم نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔پھر ان کو خدا تعالیٰ نے زندگی عطا کی ان میں سے انسان کو اس نے چنا۔اور رحیمیت کا جلوہ خدا تعالیٰ کا ظاہر ہوا۔یعنی وقت کے لحاظ سے آگے پیچھے نہیں ہے۔ضرورت کے لحاظ سے ہے انسان کو اس کی ضرورت ہے۔یہ خاص فیض ہے اللہ تعالیٰ کا جس نے زندوں میں سے جو ، شاید حیات ہیں ان میں سے انسان کو چنا اور اسے جیسا کہ ہم ابھی دیکھیں گے ایک صاحب اختیار زندگی عطا کی۔یعنی اس رحیمیت کے جلوے سے ایک صاحب اختیار نوع جو ہے وہ پیدا ہو گئی۔اور اسے ہم انسان کہتے ہیں اور یہ جو صاحب اختیار زندگی ہے اس میں یہ اپنے اختیار سے کوشش کرتا ہے۔یعنی درخت تو کوشش نہیں کرتا نہ دعا کے ذریعے سے نہ کوئی تدبیر کے ذریعے سے۔کبھی آپ نے اس قسم کا جلسہ سالانہ درختوں کا نہیں دیکھا ہوگا کہ اکٹھے ہو کہ کوئی منصوبہ بنائیں کہ ہم نے دنیا میں بنی نوع انسان کی خدمات کس کس طرح کرنی ہیں۔یہ صرف انسان کا کام ہے تو بعض اختیار انسان اپنی مرضی سے نیک و بد تد بیر کرتا ہے نیک و بد تد بیر جو ہے اس کا تعلق دوزندگیوں سے ہے۔ایک اس زندگی سے کہ اس زندگی میں ایسے انسان ہیں جو نیکی کی تدبیر کرتے ہیں، جو بھلائی کی تدبیر کرتے ہیں، جو خیر خواہی کی تدبیر کرتے ہیں جو بنی نوع انسان کی خدمت کی تدبیر کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ قربانیاں دیتے ہیں۔مال کی بھی ، اوقات کی بھی ، اور وہ دعائیں کرتے ہیں اپنی تدبیر کو کامیاب کرنے کے لئے اور ایک وہ انسان ہے جو صرف دنیا کمانے کے لئے تدبیر کرتا ہے۔خواہ اس میں بہت ساروں کو نقصان ہی پہنچ جائے مثلاً۔کلونیل پاور جو تھیں پچھلی صدی میں انہوں نے افریقہ میں جاکے اور ایشیاء میں جا کے تدبیر کی محنت کی انہوں نے لوٹنے کی ایک تدبیر کی اور بڑی کوشش کی اور جو قوی خدا تعالیٰ نے دیئے تھے اس کے لئے انہوں نے وہ خرچ کئے اور وہ تدبیر ان کی کامیاب