خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 243
خطابات ناصر جلد دوم ۲۴۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے متعلق، مثلاً تاریخ ہے تاریخ سے آگے تاریخ اقتصادیات ہے، تاریخ معاشیات ہے، تاریخ تمدن ہے، تاریخ واقعات ہے، تاریخ کے مختلف شعبے ہیں ، اس میں تحقیق نے ایک رنگ یہ اختیار کر لیا جو بڑا خطرناک ہے اور وہ یہ کہ سو آدمیوں نے مثلاً کسی زمانہ کے متعلق کتب لکھیں اپنی اپنی تحقیق کے مطابق ، تو ایک سو ایک آدمی نے جب لکھیں ، تو اس نے ان سو کتابوں میں سے کچھ یہاں سے، کچھ وہاں سے، کچھ وہاں سے ساری سو کتابوں میں سے لیا اور ایک ایسی چیز دنیا کے سامنے رکھ دی جس کا تاریخی حقیقت سے کوئی واسطہ بھی نہیں تھا۔اور اس نے اس کو زیادہ جوش دلایا ہے، مذہبی تعصب نے جو اسلام کے خلاف کتابیں لکھی گئیں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم بالکل غیر متعصب ہیں اسلامی مصنفین کی کتابیں لے کر اور ان کی مختلف آراء جو تھیں ان میں سے کوئی یہاں سے لیا، کوئی یہاں سے لیا، کچھ وہاں سے لیا ، اور ان کو جوڑ جوڑ کے ایک نئی تحقیقی کتاب لکھی گئی اور بڑا شور مچا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی اور خوب شاباش ملی اور تالیاں پیٹی گئیں ، اور وہ دراصل تاریخ تھی ہی نہیں ، وہ آپ ہی بنائی ہوئی تھی اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اور اسلام کے حسین چہرہ پر داغ لگانے کے لئے ، اور احسان جو اسلام نے کیا تھا بنی نوع انسان پر ، وہ اس کو چھپانے کے لئے اس قسم کی تحقیق شروع ہو گئی تو تحقیق تو ہے، لیکن حقائق نہیں ہیں۔اس واسطے ضرورت پڑ گئی یہ جو الہام ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا، جو رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) کی تفسیر کرتا ہے، یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کو اس بات کی ضرورت پڑ گئی ہے کہ وہ حقائق اشیاء کی طرف متوجہ ہو، نہ یہ کہ رطب و یابس ، ادھر سے لیا اُدھر سے لیا اور ایک کتاب نئی بنا دی اس قسم کی کتابوں کو دیکھ کر ہمارے بعض بزرگ جو تھے انہوں نے دوسری غلطی دوسری طرف یہ کر دی کہ مثلاً ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں افریقہ میں انہوں نے اپنے متبعین کو یہ کہا کہ تم قرآن کریم پڑھا کرو، قرآن کریم کی تفاسیر جو ہیں اس کو ہاتھ بھی نہ لگایا کرو کیونکہ وہ غلط باتیں اسلام کے خلاف تمہارے سامنے آجاتی ہیں اس لئے آخر انسان غلطی کا پتلا ہے، سو آدمی جو ہیں کتاب لکھنے والے ایک ہی مضمون پر، انہوں نے سوغلطیاں کی ہوں اگر ، ہر مصنف نے ایک غلطی کی ہو اور جو ایک سو ایک واں وہ تواس ایک اور مصنف ہے وہ سوغلطیاں اکٹھی کر کے اور ایک کتاب لکھ دے تو اس میں ایک بھی حقیقت نہیں ہوگی اور وہ تحقیق بن جائے گی اور وہ حوالہ دے گا کہ جی فلاں نے یہ کھا فلاں نے یہ لکھا اور فلاں نے یہ لکھا اور وہ